LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف

Web Desk

16 June 2026

غیر سرکاری بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم “ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز” (ایم ایس ایف) نے باضابطہ طور پر ایک انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک اعتراف کیا ہے کہ مشرقی چاڈ کے امدادی کیمپوں میں تعینات اس کے عسکری و طبی عملے کے ارکان پر کم از کم 59 سوڈانی پناہ گزینوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور سنگین نوعیت کے استحصال کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ان انتہائی شرمناک واقعات میں کئی مقامات پر کم عمر اور معصوم پناہ گزین لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تنظیم کے بااثر اہلکاروں کی جانب سے غریب مہاجرین کو روزمرہ کی بنیادی خوراک، ادویات یا کیمپوں میں ملازمت کی فراہمی کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور ان کا شدید معاشی و انسانی استحصال کیا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ تمام گھناؤنے جرائم سوڈان میں جاری ہولناک خانہ جنگی شروع ہونے کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ کی سرحد پر قائم پناہ گزین کیمپوں میں سال 2024 کے دوران پیش آئے تھے۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے ایم ایس ایف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلی تحقیقات کے بعد اب تک اس گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جانے والے 18 مبینہ ملزمان کو نوکریوں سے فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ کچھ دیگر ملزمان کی اب تک حتمی شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ جولائی کے مہینے میں سامنے آنے والی خود ایم ایس ایف کی اپنی تفصیلی آڈٹ رپورٹ کے مطابق، کیمپوں میں سوڈانی مظلومین کے خلاف جنسی استحصال کے ایسے مجرمانہ طریقے اپنائے گئے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت واضح طور پر “جنسی سمگلنگ” (ہیومن ٹریفکنگ) کے زمرے میں آتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، چاڈ کے کیمپوں میں موجود زیادہ تر متاثرین نے اس شدید خوف اور نفسیاتی دباؤ کے باعث طویل عرصے تک مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی کہ اگر انہوں نے عالمی ادارے کے بااثر عملے کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں کیمپ سے نکال دیا جائے گا یا وہ زندگی بچانے والی ضروری انسانی امداد اور راشن تک رسائی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جائیں گے۔ ایم ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں اس سٹرٹیجک اور انتظامی ناکامی کا بھی کھل کر اعتراف کیا ہے کہ جن پناہ گزینوں نے جرات کر کے ان جرائم کے خلاف ابتدائی شکایات درج کروائیں، انہیں انتظامیہ کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب ملا اور نہ ہی فوری تحفظ فراہم کیا گیا، جبکہ تنظیم کا باضابطہ شکایتی طریقہ کار (گریوینس سسٹم) زیادہ تر ناکارہ اور غیر فعال ثابت ہوا۔ ایم ایس ایف نے اپنے آفیشل بیان میں کہا ہے کہ یہ غلط طرزِ عمل اور مجرمانہ غفلت تنظیم کے بنیادی مینو فیسٹو، اخلاقی اقدار اور انسانی ذمہ داریوں کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے اور انہیں متاثرین کو پہنچنے والے اس ناقابلِ تلافی نقصان پر گہرا افسوس ہے۔

واضح رہے کہ سوڈان کی باقاعدہ سرکاری فوج اور ملک کے طاقتور ترین نیم فوجی گروہ “ریپڈ سپورٹ فورسز” (آر ایس ایف) کے مابین صدارت اور اقتدار پر قبضے کی شدید عسکری کشمکش کے بعد سے پورا ملک گذشتہ تین برسوں سے شدید ترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اس ہولناک مسلح تصادم کو اس وقت دنیا کا بدترین انسانی بحران تصور کیا جا رہا ہے جس کے تزویراتی ملبے کے نتیجے میں اب تک ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے ہی ملک میں بے گھر اور دربدر ہو چکے ہیں جبکہ دو کروڑ 80 لاکھ کے قریب معصوم شہریوں کو قحط اور شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اس طویل عسکری تنازع میں اب تک ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی کوئی حتمی یا سرکاری تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم بین الاقوامی معائنہ کاروں اور مبصرین کے مطابق یہ ہلاکتیں کم از کم ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ اموات کے درمیان ہو سکتی ہیں، جو خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔