LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ایک سست اور پیچیدہ عمل ہوگا: وائٹ ہاؤس

Web Desk

16 June 2026

وائٹ ہاؤس نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم تزویراتی بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی ایک سست، کٹھن اور انتہائی پیچیدہ عمل ثابت ہوگا۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سفارتی سطح پر تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا گیا ہے، تاہم عملی اور زمینی طور پر وہاں محفوظ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ابھی مزید سخت اقدامات کی اشد ضرورت باقی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تاریخی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو علامتی طور پر اپنے انجن سٹارٹ کرنے اور سفر کی تیاری کا حکم دیا تھا، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ وہاں تاحال مکمل طور پر محفوظ تجارتی ماحول موجود نہیں۔ عسکری و بحری رپورٹوں کے مطابق، پانیوں میں بچھائی گئی خطرناک بارودی سرنگوں (سمندری مائنز) کو صاف کرنے کا باقاعدہ آپریشن اسی ہفتے شروع کیا جائے گا، جس کی کامیابی کے بعد ہی عملی طور پر جہاز رانی کا راستہ کھولا جائے گا، تاہم اس بڑے آپریشن کے باوجود یہ سیکیورٹی خدشہ برقرار رہے گا کہ سمندری راستہ شاید ابھی مکمل طور پر بارود سے پاک اور سو فیصد محفوظ نہ ہو سکے۔

بحری امور کے ماہرین کے مطابق، سمندر کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ عمل انتہائی سست، مشکل اور بڑی حد تک موسم کی تبدیلیوں پر منحصر ہوتا ہے، اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے خطرات سے صاف کرنے میں مزید چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجارتی بحری جہازوں کے مالکان اور بڑی انشورنس کمپنیاں اب بھی اس روٹ سے اپنے قیمتی کارگو جہاز گزارنے میں شدید ہچکچاہٹ اور محتاط رویے کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی مراحل میں بین الاقوامی جہاز آزادانہ سفر کرنے کے بجائے خصوصی فوجی حفاظتی سکواڈ یا بحری قافلوں (کونواز) کی معیت میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔