LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں: جے ڈی وینس

Web Desk

16 June 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم ترین بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کے روز جنیوا میں ہونے والی باضابطہ سفارتی تقریب سے پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی اصل دستاویز پبلک کر سکتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، جے ڈی وینس کا یہ اہم بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے فرانس میں عالمی رہنماؤں کو بتایا تھا کہ معاہدے پر دونوں ممالک کی جانب سے پہلے ہی دستخط مکمل ہو چکے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن اور تہران کے مابین طے پانے والے اس تاریخی معاہدے کی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے تقریباً ڈیڑھ صفحہ طویل ایک بہت ہی عمومی دستاویز (جنرل ڈاکیومنٹ) قرار دیا ہے، جس کے بیشتر سٹرٹیجک اور تکنیکی نکات پر آنے والے دنوں میں تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے سینیئر امریکی حکام نے بھی اس امن ڈیل کی مزید اہم تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز جنیوا میں اس معاہدے پر باضابطہ اور روایتی طور پر دستخطوں کی بڑی تقریب منعقد ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے، اور اسی روز تزویراتی طور پر اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ تزویراتی اہمیت کے حامل اس بحری روٹ پر امن کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ایک بڑی رپورٹ کے مطابق آج کے دن ہی آبنائے ہرمز سے پانچ بین الاقوامی تجارتی جہاز کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں۔

یہ غیر معمولی سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانس میں گروپ آف سیون (جی 7) کے اعلیٰ سطح کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جہاں آج عالمی رہنماؤں کے مابین ایران کے متعلق ایک انتہائی خصوصی اور اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس ہنگامی سیشن میں جی 7 ممالک کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین طاقتوں بالخصوص مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے سربراہان اور اعلیٰ نمائندے بھی خصوصی طور پر شرکت کر رہے ہیں تاکہ خطے میں نئے امن مینو فیسٹو کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس سے قبل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ الیسی محل میں ہونے والی ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے انتہائی پرجوش انداز میں میڈیا کو بتایا تھا کہ انہیں یہ عالمی برادری کو بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین سب کچھ کامیابی سے طے پا چکا ہے۔

امریکی عسکری و سفارتی حکام کے مطابق، اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کی جانب سے ملکی پارلیمنٹ کے بااثر اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک (ڈیجیٹل) طور پر دستخط ثبت کیے ہیں۔ امریکی عہدیداروں کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مستقبل پر دونوں ممالک کے ماہرین کے مابین تکنیکی سطح کے انتہائی اہم مذاکرات اسی ہفتے شروع ہونے کی قوی توقع ہے، جبکہ ایران پر عائد سخت معاشی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی یا دنیا بھر کے بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کا تمام تر دارومدار خالصتاً اس بات پر ہوگا کہ ایران اس نئے معاہدے کے تحت سونپی گئی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں اور سیکیورٹی وعدے کس حد تک پورے کرتا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ معاہدے کا مکمل متن جمعہ کی جنیوا تقریب کے فوراً بعد جاری کیا جائے گا، تاہم جے ڈی وینس نے امریکی نیوز چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ سفارتی مصلحت کے تحت اس مقررہ وقت سے پہلے بھی تہران کے ساتھ طے پانے والا یہ امن معاہدہ پبلک کرنے کا خود مختار فیصلہ کر سکتے ہیں۔ جے ڈی وینس نے اس سے قبل سی این این کو دیے گئے اپنے ایک اور خصوصی انٹرویو میں صراحت کی تھی کہ موجودہ مفاہمت کی یادداشت ایک انتہائی عمومی خاکہ ہے، اور اس کی بہت سی پیچیدہ باریکیاں اور تکنیکی امور آئندہ ہونے والے طویل سفارتی مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔ امریکی نائب صدر کے مطابق، دستخط شدہ دستاویز کے بالکل پہلے پیراگراف میں ہی یہ بات دوٹوک الفاظ میں واضح کر دی گئی ہے کہ ایران خطے میں پائیدار امن، نیویگیشن کی آزادی اور معاشی استحکام کے لیے خود کو قانونی طور پر پابند کرے گا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی مختلف عسکری و دہشت گرد تنظیموں کی ہر قسم کی مالی و لاجسٹک معاونت کو فوری بند کرنا بھی شامل ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران عالمی سطح پر ایک قابلِ تصدیق اور فول پروف عہد کرے گا کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار (ایٹم بم) نہیں بنائے گا۔