LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپٹو ایکسچینج بائنانس پر تاریخی سائبر حملہ، ہیکرز نے اربوں ڈالر کی کرنسی چرا لی ڈی جی آئی ایس پی آر کا دورہ پشاور، طلبہ کیساتھ خصوصی نشست بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی موثر کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 5 ڈرون مار گرائے بند موبائل سمز پر بنے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا عمل شروع شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی: ایران پھر ڈٹ گیا ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیئے امریکی ریاست الاسکا میں سینیٹ انتخابات، سیاسی تنازع شدت اختیار گیا امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویہ عہدے سے برطرف امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی فوجی نیٹ ورک سرگرم، اربوں ڈالر کے سازو سامان کی درآمد آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا امریکی فوجی اڈوں پر فریزرز کی خرابی سائبر حملہ قرار، تحقیقات شروع امریکی صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ روس کا ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندی رواں سال کے اختتام تک بڑھانے کا فیصلہ پاکستان، قطر اور دیگر اتحادی ایران بحران کے حل کیلئے فریقین کو ساتھ بٹھانے کے قریب ہیں: ٹام بیرک یمن کا عدن ائیرپورٹ پر حوثیوں کےحملے روکنےکیلئے سلامتی کونسل سے سخت اقدامات کا مطالبہ

برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے نئے مالیاتی بجٹ میں برآمدات (Exports) میں اضافے اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ ملکی معیشت کو آئی ایم ایف پروگرام کے متبادل پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اسلام آباد میں اہم پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے معاشی ترجیحات کا روڈ میپ پیش کیا، جبکہ ان کے ہمراہ وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی بجٹ کو ‘عوام دوست’ قرار دیا۔

وزیرِ خزانہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ملکی برآمدی حکمتِ عملی کے اہداف واضح کیے محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی آئی ٹی (IT) برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچیں گی، جو زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کاروباری برادری کے لیے بڑی نوید سناتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سمیت پوری معاشی ٹیم نے اتفاق کیا ہے کہ انڈسٹری پر عائد سپر ٹیکس (Super Tax) اب ختم ہونا چاہیے۔حالیہ جیو پولیٹیکل صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ: “مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ عالمی تجارتی بحران سے بچنے کے لیے پاکستان کا اپنا قومی شپنگ فلیٹ ہونا کتنا ناگزیر ہے”۔

 “وزارتِ خزانہ نے ملک کے سب سے بڑے پیداواری شعبے یعنی زراعت کو ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹیز سے مکمل استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے”۔

 زرعی مشینری اور جدید آلات کی امپورٹ پر عائد کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو مکمل طور پر زیرو (Zero) کر دیا گیا ہے۔زرعی شعبے میں آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کسانوں کو دیے جانے والے آسان قرضوں کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ کسانوں کے لیے ‘ذرخیزی اسکیم’ اور نوجوانوں کے لیے ‘وزیراعظم یوتھ لون’ مختص کیا گیا ہے۔

کانفرنس میں شریک دیگر وفاقی وزرا نے بجٹ کے عوامی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بجٹ میں 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کو بھی معاشی انجن کے طور پر متحرک کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ بجٹ خالصتاً تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں اور ایکسپورٹرز کا ہے۔ وزیراعظم نے کڑے وقت میں بھی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایف بی آر (FBR) کا کلچر تبدیل ہو چکا ہے، اور ٹیکس چوری و لیکج میں کمی کا آغاز شوگر انڈسٹری پر سخت مانیٹرنگ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ‘وزیراعظم اپنا گھر پروگرام’ اور دیگر اقدامات کے ذریعے مڈل کلاس (متوسط طبقے) کے لیے خصوصی معاشی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔