LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ داخلہ محسن نقوی اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے، امریکہ ایران امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز ایران کے ہر حملے کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی 4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ

قومی اسمبلی میں آج وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا، دفاع اور قرضوں کیلئے بھاری رقوم مختص

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت آج قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرے گی، جس میں معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے مالی اہداف اور حکومتی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی کے اجلاس میں ساڑھے 17 ہزار ارب روپے مالیت کا بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

دستاویزات کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے جبکہ دفاعی ضروریات کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے مالی ریلیف سے متعلق تجاویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

حکومت نے پٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ بجٹ میں برآمدات کو 32 ارب 80 کروڑ ڈالر اور درآمدات کو 70 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیے جانے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ترقیاتی منصوبوں کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ سابق قبائلی اضلاع کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روز پیش کیے گئے اقتصادی جائزے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو 3 اعشاریہ 7 فیصد رہی جبکہ معیشت کا مجموعی حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اقتصادی جائزے میں فی کس آمدن، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات اور رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔