لاؤس میں دریافت کیا گیا ’ڈیتھ جار‘ کیا ہے؟
Web Desk
25 May 2026
جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاؤس (Laos) میں واقع دنیا کے پراسرار ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ”پلین آف جارز“ (Plain of Jars) سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک انتہائی ہولناک اور عجیب و غریب دریافت کی ہے۔ ایک سنسان جنگلی علاقے میں کھدائی کے دوران ایک ایسا بہت بڑا پتھریلا مرتبان ملا ہے، جو قدیم دور کے 37 مختلف انسانوں کی ہڈیوں اور دانتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس سنسنی خیز دریافت نے محققین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس نے اس پراسرار وادی کے صدیوں پرانے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد فراہم کی ہے، جہاں پتھروں کے بنے ہوئے ہزاروں بڑے برتن صدیوں سے بکھرے پڑے ہیں۔تاریخی پس منظر اور وائکنگ دور سے مماثلتماہرین نے اس مخصوص برتن کو ’ڈیتھ جار‘ (Death Jar) یا علمِ آثارِ قدیمہ کی اصطلاح میں ’جار نمبر 1‘ کا نام دیا ہے۔ اس برتن کے اندر پائے جانے والے انسانی دانتوں پر جب جدید سائنسی تیکنیک ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Dating) آزمائی گئی تو حیران کن حقائق سامنے آئے:زمانہ: یہ انسانی باقیات تقریباً 890 سے 1160 عیسوی کے درمیانی عہد کی ہیں۔عالمی تناظر: یہ تاریخ انسانی کا وہی دور ہے جب دنیا کے دوسری طرف ”وائکنگز“ (Vikings) اپنے ہولناک حملوں اور فتوحات کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔’ڈیتھ جار‘ کی بناوٹ اور انفرادیتلاؤس میں دریافت ہونے والا یہ پتھریلا برتن اپنی ساخت اور حجم کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر بڑا اور منفرد ہے۔ ذیل میں اس کی تیکنیکی خصوصیات کا خاکہ دیا گیا ہے:خصوصیت / پیمائشتفصیلی معلوماتاونچائی اور چوڑائییہ جار تقریباً 1.3 میٹر اونچا اور 2 میٹر چوڑا ہے۔ظاہری ساختاس کی دیواریں انتہائی موٹی ہیں، نچلا حصہ چوڑا ہے اور اس کی مجموعی شکل ایک گہرے پیالے جیسی ہے۔منفرد پہلواس کے اندر سے ملنے والی انسانی باقیات کی غیر معمولی مقدار اسے لاؤس میں اب تک ملنے والے تمام جارز سے بالکل الگ اور منفرد بناتی ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رائےتحقیق کے شریک مصنف اور نامور ماہرِ آثارِ قدیمہ نکلس اسکوپل (Nicholas Skopel) کے مطابق، یہ لاؤس میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے پتھریلے برتنوں میں سے ایک ہے۔صدیوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہ مرتبان قدیم دور میں تدفین کے نظام یا مردوں کی ہڈیاں محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، اور اس ’ڈیتھ جار‘ سے 37 انسانوں کے ڈھانچے ملنے کے بعد اب اس نظریے کو حتمی سائنسی ثبوت مل گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک عظیم الشان تاریخی قبرستان یا تدفین گاہ تھا جہاں مردوں کو ان مرتبانوں کی شکل میں محفوظ کیا جاتا تھا۔
متعلقہ عنوانات
لڑکی نے 60 روز تک سو کر 28 لاکھ روپے سے زائد کمالیے
8 November 2026
شارجہ بک فیئر میں جرمن فنکار کا چلتا پھرتا درخت بچوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
7 November 2026
خاتون کاروباری شخصیت کا ملازماؤں کو مہنگے فولڈ ایبل آئی فونز کا تحفہ
7 November 2026
بھارت: 50 سالہ شخص دانت صاف کرتے ہوئے برش ہی نگل گیا
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
10 سال سے زائد کی محنت، امریکی شہری نے دنیا کی سب سے بڑی ربڑ بینڈ بال بنا ڈالی
4 November 2026
90 سالہ جاپانی باڈی بلڈر کی فٹنس نے دنیا کو حیران کردیا
4 November 2026
مرغیاں کھا کھا کر باز موٹی، ماہرین نے ڈائٹ شروع کروا دی
4 November 2026