LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

لاؤس میں دریافت کیا گیا ’ڈیتھ جار‘ کیا ہے؟

Web Desk

25 May 2026

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاؤس (Laos) میں واقع دنیا کے پراسرار ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ”پلین آف جارز“ (Plain of Jars) سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک انتہائی ہولناک اور عجیب و غریب دریافت کی ہے۔ ایک سنسان جنگلی علاقے میں کھدائی کے دوران ایک ایسا بہت بڑا پتھریلا مرتبان ملا ہے، جو قدیم دور کے 37 مختلف انسانوں کی ہڈیوں اور دانتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس سنسنی خیز دریافت نے محققین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس نے اس پراسرار وادی کے صدیوں پرانے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد فراہم کی ہے، جہاں پتھروں کے بنے ہوئے ہزاروں بڑے برتن صدیوں سے بکھرے پڑے ہیں۔تاریخی پس منظر اور وائکنگ دور سے مماثلتماہرین نے اس مخصوص برتن کو ’ڈیتھ جار‘ (Death Jar) یا علمِ آثارِ قدیمہ کی اصطلاح میں ’جار نمبر 1‘ کا نام دیا ہے۔ اس برتن کے اندر پائے جانے والے انسانی دانتوں پر جب جدید سائنسی تیکنیک ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Dating) آزمائی گئی تو حیران کن حقائق سامنے آئے:زمانہ: یہ انسانی باقیات تقریباً 890 سے 1160 عیسوی کے درمیانی عہد کی ہیں۔عالمی تناظر: یہ تاریخ انسانی کا وہی دور ہے جب دنیا کے دوسری طرف ”وائکنگز“ (Vikings) اپنے ہولناک حملوں اور فتوحات کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے۔’ڈیتھ جار‘ کی بناوٹ اور انفرادیتلاؤس میں دریافت ہونے والا یہ پتھریلا برتن اپنی ساخت اور حجم کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر بڑا اور منفرد ہے۔ ذیل میں اس کی تیکنیکی خصوصیات کا خاکہ دیا گیا ہے:خصوصیت / پیمائشتفصیلی معلوماتاونچائی اور چوڑائییہ جار تقریباً 1.3 میٹر اونچا اور 2 میٹر چوڑا ہے۔ظاہری ساختاس کی دیواریں انتہائی موٹی ہیں، نچلا حصہ چوڑا ہے اور اس کی مجموعی شکل ایک گہرے پیالے جیسی ہے۔منفرد پہلواس کے اندر سے ملنے والی انسانی باقیات کی غیر معمولی مقدار اسے لاؤس میں اب تک ملنے والے تمام جارز سے بالکل الگ اور منفرد بناتی ہے۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رائےتحقیق کے شریک مصنف اور نامور ماہرِ آثارِ قدیمہ نکلس اسکوپل (Nicholas Skopel) کے مطابق، یہ لاؤس میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے پتھریلے برتنوں میں سے ایک ہے۔صدیوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہ مرتبان قدیم دور میں تدفین کے نظام یا مردوں کی ہڈیاں محفوظ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، اور اس ’ڈیتھ جار‘ سے 37 انسانوں کے ڈھانچے ملنے کے بعد اب اس نظریے کو حتمی سائنسی ثبوت مل گیا ہے کہ یہ علاقہ ایک عظیم الشان تاریخی قبرستان یا تدفین گاہ تھا جہاں مردوں کو ان مرتبانوں کی شکل میں محفوظ کیا جاتا تھا۔