LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی امریکہ ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایرانی و عمانی سفارتکاروں کا رابطہ، سفارتی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کو ایران کی پالیسی بارے شدید تنقید کا سامنا بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان 

امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران

Web Desk

25 May 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات میں دونوں ممالک ایک بنیادی فریم ورک (Framework) تک پہنچ گئے ہیں، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی سفارتی وفد بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایک بڑے اور اہم حصے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، لیکن حتمی معاہدہ طے پانے سے متعلق کوئی بھی دعویٰ یا بیان دینا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکیوں اور پروپیگنڈے کے باوجود اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین اور مضبوط حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے ایجنڈے کی وضاحت کیموجودہ سفارتی کوششوں کا واحد اور بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ اور کشیدگی کو کم کرنا ہے۔اس مرحلے پر ایران کے جوہری معاملات (Nuclear Issues) پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ دوسرے تمام حساس اور تزویراتی معاملات کو اس وقت مذاکرات کی میز سے الگ رکھا گیا ہے۔ خطے میں جاری ثالثی کی کوششوں کے باوجود، ایران کا فی الحال اپنا کوئی سفارتی وفد پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی نازک صورتحال اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ اس سٹرٹیجک آبی گزرگاہ کا انتظام مکمل طور پر ساحلی ممالک کی ذمہ داری ہے اور امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی کہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی نیا ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمندر میں بین الاقوامی جہازوں کو نیویگیشن یا دیگر سروسز اور خدمات فراہم کر رہے ہیں، تو اس کی قیمت وصول کرنا ایک نارمل بات ہے، لیکن اسے کسی صورت ’ٹول ٹیکس‘ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے دورۂ بھارت کے اختتام پر نئی دہلی سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جاری ان حساس مذاکرات پر تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا”ہمیں امید تھی کہ گزشتہ رات ہی اس فریم ورک یا معاہدے سے متعلق کوئی حتمی خبر موصول ہو جائے گی، اور ممکن ہے کہ یہ بڑی پیشرفت آج ہی سامنے آ جائے۔ تاہم، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے زیادہ قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ہماری حکمتِ عملی واضح ہے؛ یا تو ہمارا ایک بہترین اور جامع معاہدہ ہوگا، یا پھر ہمیں اس مسئلے سے کسی اور طریقے سے نمٹنا پڑے گا۔“

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، بہت سے زیرِ بحث معاملات اب تک نتیجہ خیز رہے ہیں اور ایران ایک طاقتور اور مہذب ملک کے طور پر مناسب موقع پر موزوں سفارتی جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔