LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی نائب صدرکی آج واشنگٹن سے پاکستان روانگی کاامکان اسحاق ڈاراوروسی وزیرخارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن کیلیے تعاون پر گفتگو ایران کے پاس مذاکرات کی میزپر دانشمندانہ فیصلہ کرنے کا موقع ہے، امریکی وزیردفاع   ایرانی قوم کے اتحاد سے دشمن میں دراڑ پڑگئی، مجتبیٰ خامنہ ای اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، مسلسل سفارتی رابطوں پر زور ایرانی وزیر خارجہ عباس اراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد میں آمد متوقع- حکومتی ذرائع اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کوششوں پر تبادلہ خیال ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی قیادت سے رابطہ، جنگ بندی امور پر مشاورت پنجاب حکومت کی اپنا کھیت اپنا روزگار سکیم کا آغاز، زمین اور گرانٹ دینے کا اعلان بھارتی وزیر دفاع جرمنی میں آبدوز کے اندر جاتے ہوئے گر گئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی مگر ہوش میں ہیں: نیویارک ٹائمز پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 3.45 ارب ڈالر کا تمام قرض ادا کر دیا، اسٹیٹ بینک خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 ہلاک معرکہ حق: فیلڈ مارشل کا بھارتی اشتعال انگیزی اور کشمیر پر دو ٹوک مؤقف ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں: ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو جواب

اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کوششوں پر تبادلہ خیال

Web Desk

24 April 2026

اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں کو خاص طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔

سفارتی کوششیں اور پاکستان کا موقف: سینیٹر اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مسلسل مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ: پاکستان تمام حل طلب امور کے پرامن حل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

ایران کا داخلی استحکام اور ٹرمپ کا دعویٰ: رابطے کے دوران عباس عراقچی نے اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ایران کے داخلی نظم و ضبط اور عوامی اتحاد کا دفاع کیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا جس میں ایرانی حکومت کو انتشار اور بدحالی کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ:ایران کے لیے یہ دونوں محاذ ایک ہی جنگ کا حصہ ہیں جن کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

ایرانی عوام اور ریاستی ادارے کسی بھی بیرونی دباؤ کے خلاف پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور ان میں کسی قسم کے اختلافات یا دراڑیں موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ ایک “مستقل اور طویل المدتی معاہدہ” کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے فی الحال محتاط ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور وہ اپنی خود مختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔