LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان جنگِ ستمبر و مئی میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا: صدر، وزیراعظم پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں کرائی جائیں، صوبوں کی تقسیم پر جلد بازی وفاق کے لیے خطرناک ہو گی: بیرسٹر گوہر غزہ میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کی اجتماعی نماز جنازہ ادا، سپرد خاک

ایران جنگ : اب تک 9 ہزار سے زائد حملے کیے، امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

Web Desk

23 March 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اب تک 9 ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق مختلف ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا گیا۔

یہ کارروائیاں اس وقت سے جاری ہیں جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری سے جنگ کا آغاز کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کے دعوؤں کے باوجود سینٹکام کا کہنا ہے کہ حملے بدستور جاری ہیں۔

سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج جدید اسلحے کے ذریعے ایرانی فوجی اہداف کو مسلسل اور بھرپور طریقے سے نشانہ بنا رہی ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال ابھی بھی سنگین ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ بحران کا حل نکالا جا سکے۔