LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی صدر کو کمزور اور نیتن یاہو کو اسرائیل کی بقا کا ضامن قرار دیا

Web Desk

15 March 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کو کمزور اور غیر مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو وزیر اعظم نہ ہوتے تو شاید آج اسرائیل کا وجود بھی نہ ہوتا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ معافی کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسے نیتن یاہو کے سر پر لٹکائے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے اب تک نیتن یاہو کو معافی دینے سے انکار کیا ہے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے خیال میں نیتن یاہو کی قیادت نے اسرائیل کو مضبوط بنایا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کوئی اور رہنما وہ کامیابیاں حاصل کرسکتا تھا جو انہوں نے اور نیتن یاہو نے مل کر حاصل کیں۔
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے دیگر ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہوں، کم از کم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے میں ایسا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک اپنا تیل اسی آبنائے سے حاصل کرتے ہیں جبکہ امریکا کو اس راستے سے براہ راست فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے ان ممالک کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔