LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان

اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم، علیمہ خان اور متعدد کارکن پولیس کی تحویل میں

Web Desk

18 November 2025

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر جاری دھرنے کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اس سے پہلے علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو سڑک سے ہٹایا اور تقریباً 8 سے 10 کارکنوں کو قیدی وین میں منتقل کردیا۔

آپریشن کے دوران عمران خان کی دوسری ہمشیرہ، نورین نیازی، کی طبعیت بھی خراب ہوگئی۔

پولیس نے آج اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند رکھا، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سے کسی رہنما یا خاندان کے فرد کی ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ملاقات نہ ہونے پر علیمہ خان نے دھرنا دیا تھا۔

پولیس نے ان سے راستہ خالی کرنے کی درخواست کی مگر مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔ علیمہ خان نے دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں بھی تحویل میں لے لیا۔