LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی قائدین کا مشترکہ جدوجہد کا اعلان پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا: وزیراعلیٰ سندھ مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری صومالیہ کا بحری قزاقی کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش: وزیرِ خزانہ کی شفافیت اور عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل

اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم، علیمہ خان اور متعدد کارکن پولیس کی تحویل میں

Web Desk

18 November 2025

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر جاری دھرنے کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت تحریک انصاف کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اس سے پہلے علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد پولیس کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے مظاہرین کو سڑک سے ہٹایا اور تقریباً 8 سے 10 کارکنوں کو قیدی وین میں منتقل کردیا۔

آپریشن کے دوران عمران خان کی دوسری ہمشیرہ، نورین نیازی، کی طبعیت بھی خراب ہوگئی۔

پولیس نے آج اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند رکھا، جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان سے کسی رہنما یا خاندان کے فرد کی ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ملاقات نہ ہونے پر علیمہ خان نے دھرنا دیا تھا۔

پولیس نے ان سے راستہ خالی کرنے کی درخواست کی مگر مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔ علیمہ خان نے دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں بھی تحویل میں لے لیا۔