LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

اب تک 43 ایرانی جنگی جہازوں کا نقصان یا تباہ کیا جا چکا: امریکی سینٹرل کمانڈ

Web Desk

7 March 2026

United States Central Command

کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران 43 ایرانی جنگی طیاروں کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا ہے

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن 28 فروری 2026ء کو دوپہر ایک بج کر پندرہ منٹ پر شروع کیا گیا جس میں امریکا کی فضائی، بحری اور ڈرون صلاحیتوں کو استعمال کیا گیا۔بیان کے مطابق اس کارروائی میں بی ٹو اسٹیلتھ اور بی ون بمبار طیارے استعمال کیے گئے جبکہ ایف 15، ایف 16، ایف 18 اور ایف 22 لڑاکا طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ایران میں کارروائی کے دوران ایف 35 اسٹیلتھ فائٹرز بھی شامل تھے۔امریکی حکام کے مطابق اے 10 حملہ آور طیارے اور الیکٹرانک وار فیئر طیارے بھی آپریشن کا حصہ رہے۔ فضائی دفاع کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔

کارروائی میں ایم کیو 9 ریپر اور دیگر ڈرونز کے ساتھ ساتھ پی 8 میری ٹائم پٹرول اور آر سی 135 جاسوس طیارے بھی استعمال کیے گئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحری بیڑے، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور جوہری توانائی سے چلنے والے ایئرکرافٹ کیریئرز بھی آپریشن میں تعینات ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ سی 17 اور سی 130 کارگو طیارے بھی آپریشن میں شامل رہے جبکہ فضائی ری فیولنگ ٹینکرز کے ذریعے جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کیا گیا۔