LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، مصر اور ترکیہ کی سعودیہ کیخلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کا اعلان، زیلینسکی کا خیرمقدم لیہ میں مبینہ مضرِ صحت چاول کھانے سے بچوں اور خواتین سمیت 19 افراد کی حالت غیر کراچی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 10 روز کی توسیع سعودی دارالحکومت کے سکولوں میں ایک ہفتے تک آن لائن کلاسز کا فیصلہ پیپلزپارٹی گورنر راج اور ایمرجنسی بارے اپنا موقف واضح کرے: فاروق ستار روس 60 روزہ مکمل جنگ بندی کرے تو یوکرین میں انتخابات کرا دیں گے، زیلنسکی ہنگو میں دفعہ 144 نافذ، پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد مچھ میں ٹرک اور وین میں خوفناک تصادم، 7 افراد جاں بحق، 30 سے زائد زخمی آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری مردان میں 12 اکتوبر کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سیٹ اپ کے خدوخال سامنے آگئے پشاور میں مختلف سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 دہشتگرد ہلاک خیبرپختونخوا میں دو برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ

اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکہ، 12 افراد جاں بحق ، 27 زخمی

Web Desk

11 November 2025

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور پیدل تھا اور کچہری کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا، تاہم سیکیورٹی چیکنگ کے باعث رک گیا۔ کچھ دیر گیٹ کے قریب بیٹھا رہا اور جیسے ہی پولیس وین وہاں رکی، اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں آٹھ کلو بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کیے گئے۔ شواہد کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا، جس کا سر موقع سے برآمد ہو گیا ہے۔ فرانزک ٹیم نے شواہد تحویل میں لے لیے ہیں۔

دھماکے کے نتیجے میں پولیس وین سمیت تین گاڑیاں اور متعدد موٹرسائیکلیں تباہ ہو گئیں۔ پولیس، رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں جبکہ وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری کی عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

پمز اسپتال کے ذرائع کے مطابق اب تک 12 لاشیں اور 20 سے زائد زخمی اسپتال منتقل کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق دہشتگرد کا تعلق بیرونی نیٹ ورک سے ظاہر ہوتا ہے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں، اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم ان عناصر کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
صدر زرداری نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔