LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جبوتی سے یمن جانیوالے تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 15 بچوں سمیت 139 افراد ہلاک ایمازون کے بانی کی جیف بیزوز کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی اے آئی اور جوہری تنازع 2100 میں انسانیت کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، رپورٹ میں انتباہ برطانیہ: وائلڈ لائف پارک میں شیر کا حملہ، ایک شخص ہلاک اسلام آباد میں ریڈ الرٹ جاری، پولیس کی بھاری نفری تعینات کے پی میں ایمرجنسی مسترد کرتے ہیں، تحریک انصاف کا وفاق سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھارتی ریاست منی پور میں بدامنی، مودی حکومت کشیدگی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے ایران کی سعودیہ کو یمن سے مذاکرات کیلئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش آبنائے ہرمز میں سُپر آئل ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی ویڈیو جاری ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ، ایک پاکستانی جاں بحق، 11 افراد زخمی یو اے ای میں بارش کا امکان، تیز ہواؤں اور گردوغبار کی پیشگوئی امریکا سے بڑی طاقتوں کی ایران کو فتح کرنیکی کوششیں بھی کوڑے دان میں جا پہنچیں: محسن رضائی یو اے ای سپریم کورٹ نے غیر ملکی رہائشی کی ملک بدری کا حکم منسوخ کر دی دبئی میں انٹرنیشنل میمن آرگنائزیشن کی نو منتخب عالمی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ

ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کا اعلان، زیلینسکی کا خیرمقدم

Web Desk

12 October 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے تناظر میں دونوں ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے ایک فوری جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے، تاہم ماسکو کی جانب سے فی الحال اس معاہدے پر عمل درآمد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ جنگ بندی کے تحت روس اور یوکرین ایک دوسرے کے پاور پلانٹس، بجلی کی ترسیل کے نظام اور توانائی کی دیگر اہم تنصیبات کو فضائی یا میزائل حملوں کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔

رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ توانائی جنگ بندی فوری طور پر مؤثر ہو چکی ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگ زدہ علاقوں میں توانائی کے نظام کو تباہی سے بچانا اور سخت ترین حالات میں شہریوں کو بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایک میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ اگر روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکتا ہے تو یوکرین بھی جوابی کارروائی کے طور پر روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانا بند کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اس معاملے پر کوئی مفاہمت طے پاتی ہے تو جنگ بندی کے آغاز کی واضح تاریخ بتائی جائے، کیونکہ یوکرین اس پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔