LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں

ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں

Web Desk

10 January 2026

نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبل امن انعام کو کسی اور کو منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مچاڈو نے کہا تھا کہ وہ 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔

تاہم نوبل کمیٹی کے قوانین کے مطابق امن انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی اپیل ممکن نہیں ہے۔ کمیٹی انعام ملنے کے بعد انعام یافتگان کے اقدامات یا بیانات پر تبصرہ نہیں کرتی۔

نارویجن نوبل انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا کہ ایک بار انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسے واپس نہیں لیا جا سکتا، نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا۔

پچھلے دنوں مچاڈو نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو انعام دینا وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی برطرفی پر اظہار تشکر ہوگا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا واقعی ٹرمپ کو پیشکش کی گئی، تو مچاڈو نے کہا کہ ابھی ایسا نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے طویل عرصے سے نوبل امن انعام جیتنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مچاڈو یہ انعام پیش کریں، تو وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔