LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز بند، خلاف ورزی کرنیوالے جہاز تباہی کیلئے تیار رہیں: ایرانی پاسداران انقلاب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلیں پیر کو سماعت کیلئے مقرر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے سوئس حکومت کے تعاون کے خواہاں ہیں: گورنر پنجاب خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال پر پی ٹی آئی جواب دہ ہے: طارق فضل چودھری برآمدات میں اضافے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا: احسن اقبال ایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکریٹری منتخب محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ

ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں

Web Desk

10 January 2026

نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبل امن انعام کو کسی اور کو منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مچاڈو نے کہا تھا کہ وہ 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔

تاہم نوبل کمیٹی کے قوانین کے مطابق امن انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی اپیل ممکن نہیں ہے۔ کمیٹی انعام ملنے کے بعد انعام یافتگان کے اقدامات یا بیانات پر تبصرہ نہیں کرتی۔

نارویجن نوبل انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا کہ ایک بار انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسے واپس نہیں لیا جا سکتا، نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا۔

پچھلے دنوں مچاڈو نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو انعام دینا وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی برطرفی پر اظہار تشکر ہوگا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا واقعی ٹرمپ کو پیشکش کی گئی، تو مچاڈو نے کہا کہ ابھی ایسا نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے طویل عرصے سے نوبل امن انعام جیتنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مچاڈو یہ انعام پیش کریں، تو وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔