LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

امریکا کے بغیر نیٹو بے بس ہے، چین اور روس صرف ہم سے ڈرتے ہیں، صدر ٹرمپ

Web Desk

8 January 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اسی کی عزت کرتے ہیں، جبکہ نیٹو کے بغیر عالمی طاقتیں بے خوف ہو جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہا ہے، چاہے نیٹو امریکا کے لیے موجود نہ ہو، تاہم اب انہیں اس بات پر شک ہے کہ اگر امریکا کو ضرورت پڑی تو کیا نیٹو ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا نہیں۔

انہوں نے نیٹو رکن ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تھے اور اس کا بوجھ امریکا کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنی کوششوں کے نتیجے میں انہوں نے بعض ممالک کو دفاعی اخراجات 5 فیصد تک بڑھانے پر مجبور کیا، جو اس سے قبل ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔

امریکی صدر کے مطابق نیٹو کی مضبوطی عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اس کے تمام ارکان کو اپنی ذمہ داریاں مساوی طور پر ادا کرنا ہوں گی۔