LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر ٹرمپ کا نڈال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر نہ کرنے کا اعلان زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ سعودی عرب میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ملتوی الیکشن کمیشن کا پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا فیصلہ پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کی دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشق اختتام پذیر انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ اور وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے: چیف جسٹس آزاد کشمیر کابل میں چائے پینے کے بعد دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: اسحاق ڈار مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا کروز میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا ہماری پوری کوشش تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو: محسن نقوی احد چیمہ کی ایم ڈی آپریشنز ورلڈ بینک سے ملاقات، پاکستان کے ترقیاتی اہداف پر اہم تبادلہ خیال روسی وزیرِ داخلہ پاکستان کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی منظوری پشاور دیر کالونی اسکول حادثہ: ایل آر ایچ اسپتال میں 33 افراد جاں بحق اور 20 زخمی لائے گئے، ترجمان کے پی ایمرجنسی مارشل لاء سے بدتر، تمام طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو تو غیر مشروط مذاکرات کو تیار ہیں: محمود خان اچکزئی

وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا تنازعات کی زد میں آگئیں

Web Desk

15 October 2026

وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا (Katie Zachariah) اپنی پہلی ہی باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بدترین گھبراہٹ، اعتماد کی کمی اور زبان میں لڑکھڑاہٹ کے باعث شدید تنقید اور تنازعات کی زد میں آ گئی ہیں۔

بریفنگ کے دوران وہ کاغذ پر لکھا ہوا تیار بیان بھی روانی سے پڑھنے میں ناکام رہیں۔ شدید دباؤ کے باعث وہ اس قدر گھبرا گئیں کہ ایک موقع پر اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے ‘میرے شوہر’ کے بجائے غلطی سے ‘میرے صدر’ کے الفاظ بول بیٹھیں۔ اگرچہ انہوں نے فوراً اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے تصحیح کی، لیکن میڈیا روم میں موجود صحافیوں کے لیے یہ لمحہ انتہائی حیران کن تھا۔

جب صحافیوں کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا تو کیٹی زکریا تسلی بخش جوابات دینے کے بجائے مزید الجھ گئیں۔ بالخصوص امریکہ اور یوکرین کے اہم تعلقات و پالیسی سے متعلق پوچھے گئے سوال کو انہوں نے یکسر ٹال دیا۔ مشکل اور چیلنجنگ سوالات کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیے وہ محض 14 منٹ کی مختصر گفتگو کے بعد بریفنگ ادھوری چھوڑ کر فوری طور پر پوڈیم سے روانہ ہو گئیں۔ وائٹ ہاؤس بریفنگ روم سے یوں اچانک جانے پر صحافتی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے ان کی صلاحیتوں پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔