LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

امریکی صدر نے وینزویلا پر متوقع دوسرا فوجی حملہ منسوخ کردیا

Web Desk

9 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر متوقع دوسری فوجی حملے کی لہر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کی جانب سے تعاون سامنے آنے کے بعد اس فیصلے پر نظرثانی کی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات اب بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں تیل کے شعبے میں بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ زیر غور ہے، جس کے حوالے سے وہ آج وائٹ ہاؤس میں متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ وینزویلا میں موجود تمام آئل ٹینکرز حفاظتی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اپنی موجودہ جگہوں پر ہی رہیں گے، اور اس معاملے پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین کے پابند نہیں ہیں اور امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، ان کی ’’اپنی اخلاقیات اور ذاتی فیصلہ‘‘ ہی وہ واحد حد ہے جو انہیں روکتی ہے۔