LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ نے تارکینِ وطن کے ورک پرمٹ کی خودکار توسیع کی سہولت ختم کر دی: ڈی ایچ ایس کا نیا قانون کراچی میں جکھرانی ہاؤس پر پولیس چھاپہ: رکن اسمبلی اعجاز جکھرانی کا چھوٹے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان، اعلیٰ سطح انکوائری کا مطالبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہوگا جنوبی کوریا: کیمیائی پلانٹ میں بدترین آتشزدگی، 7 ہزار کارکنوں کا انخلا اقوام متحدہ نے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے محفوظ رہائشگاہوں کیلئے سرمایہ کاری ناگزیر قرار دیدی سعودیہ پر حملوں کے منفی اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں: آئی ایم ایف نے خبردار کر دیا یمن میں بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد سے بنیادی مسائل سنگین ہونے لگے: اقوام متحدہ یوکرین تنازع کا حل: امریکا اور یورپ کی 4 نکاتی امن تجاویز کیلئے سفارتی کوششیں تیز امریکا میں مہنگائی مزید بڑھ گئی، ٹرمپ انتظامیہ قابو پانے کیلئے متحرک انتظار کریں اور دیکھیں ایران کیخلاف کیا کرتے ہیں، صدر ٹرمپ کی نئی کارروائی کی دھمکی یوکرین کے روسی آئل ریفائنریز پر حملے، توانائی جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے: الیگزینڈر نوواک سائبر خطرات نئی سطح پر پہنچ گئے، روس ڈیجیٹل خودمختاری مزید مضبوط کرے گا: صدر پوتن یوکرین کے روس پر رواں سال کے سب سے بڑے ڈرون حملے، 902 ڈرونز تباہ روسی اور چینی وزرائے خارجہ کی ملاقات: امریکا، یوکرین اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال یوکرین اور سٹار لنک پر پابندیاں امریکی حکومت لگاتی ہے، ایلون مسک

امریکا میں مہنگائی مزید بڑھ گئی، ٹرمپ انتظامیہ قابو پانے کیلئے متحرک

Web Desk

15 October 2026

امریکہ کی لیبر بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مہینے میں ملک میں مہنگائی کی شرح (افراطِ زر) میں ایک بار پھر غیر متوقع اور نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں اگست کے مقابلے میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد امریکی سالانہ افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل اگست میں مہنگائی کی شرح 3.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ معاشی ماہرین نے ستمبر میں یہ شرح 3.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔ خوراک اور توانائی کے قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ کو نکال کر دیکھی جانے والی بنیادی مہنگائی (Core CPI) کی شرح بھی 2.6 فیصد پر جا پہنچی ہے۔

مہنگائی میں اس حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی ہے، جس نے امریکی شہریوں کی حقیقی قوتِ خرید اور تنخواہوں میں ہونے والے اضافے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے دیگر اخراجات پورا کرنا عوام کے لیے مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان معاشی چیلنجز کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرعِ سود میں مزید اضافے کے امکانات پر امریکی سیاست اور بالخصوص آنے والے وسط مدتی انتخابات (Midterms) کے تناظر میں شدید بحث چھڑ گئی ہے