LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ

برطانیہ میں ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی کا امکان، ڈیپ فیک الزامات

Web Desk

9 January 2026

برطانیہ میں ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو شدید تنقید اور ممکنہ پابندی کا سامنا ہے۔ پلیٹ فارم سے منسلک ایک مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ پر خواتین اور بچوں کی تصاویر کو نازیبا انداز میں تبدیل کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ڈیپ فیک مواد کو “انتہائی گھناؤنا اور ناقابلِ برداشت” قرار دیا اور کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں اور خواتین کے تحفظ کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، برطانیہ میں آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت ایکس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پلیٹ فارم نقصان دہ مواد روکنے میں ناکام رہا ہے تو اس پر بھاری جرمانے یا مکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ AI ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پرائیویسی، وقار اور انسانی حقوق شدید خطرات سے دوچار ہیں، اور بچوں سے متعلق ڈیپ فیک مواد کو سنگین جرم تصور کیا جانا چاہیے۔

تا حال ایکس یا ایلون مسک کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم تنازع بڑھنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا ریگولیشن سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔