LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

برطانیہ میں ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی کا امکان، ڈیپ فیک الزامات

Web Desk

9 January 2026

برطانیہ میں ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو شدید تنقید اور ممکنہ پابندی کا سامنا ہے۔ پلیٹ فارم سے منسلک ایک مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹ پر خواتین اور بچوں کی تصاویر کو نازیبا انداز میں تبدیل کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اس معاملے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے ڈیپ فیک مواد کو “انتہائی گھناؤنا اور ناقابلِ برداشت” قرار دیا اور کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں اور خواتین کے تحفظ کی مکمل ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، برطانیہ میں آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت ایکس کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پلیٹ فارم نقصان دہ مواد روکنے میں ناکام رہا ہے تو اس پر بھاری جرمانے یا مکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ AI ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے پرائیویسی، وقار اور انسانی حقوق شدید خطرات سے دوچار ہیں، اور بچوں سے متعلق ڈیپ فیک مواد کو سنگین جرم تصور کیا جانا چاہیے۔

تا حال ایکس یا ایلون مسک کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم تنازع بڑھنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا ریگولیشن سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔