LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

صدر ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل پر 500فیصد ٹیرف ، بھارتی اسٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار

Web Desk

8 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کے بل کی حمایت کر دی ہے، جس کے بعد عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی جبکہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔

بھاری ٹیرف سے متعلق خبروں کے بعد بھارت کی اسٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز بھی مندی کی لپیٹ میں رہی، جہاں سرمایہ کاروں کو چار دنوں میں مجموعی طور پر 9 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

یہ ٹیرف بل امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پیش کیا ہے، جسے صدر ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہو گئی ہے، جبکہ بل کی منظوری اگلے ہفتے متوقع ہے۔ بل منظور ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ روس سے تیل خریدنے والے ہر ملک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کے مجاز ہوں گے۔

بھارت پہلے ہی امریکی 50 فیصد ٹیرف کے باعث معاشی دباؤ میں ہے، جبکہ نئے بل سے چین اور برازیل جیسے بڑے ممالک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی توانائی منڈی اور ابھرتی معیشتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔