LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شمالی کوریا کا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کا تجربہ اردن کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان جرمنی میں پولینڈ کے سٹارلنک سیٹلائٹ سٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار صدر ٹرمپ کا سعودیہ پر حملوں پر اظہار تشویش، حوثیوں کا رویہ انتہائی خراب قرار دیدیا سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کا الزام، متعدد امریکی شہری گرفتار غیر قانونی، غیر انسانی حملوں کیخلاف ترکیہ اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: اردگان ٹرمپ انتظایہ کی روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں تیز امریکی فوج کی کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت امریکی ماہرین رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ نے معاشیات کا نوبیل انعام حاصل کر لیا شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کا 78 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے 7 گھنٹے طویل ملاقات، حکومتی مسائل بارے تبادلہ خیال پاسداران انقلاب کا دو روز میں آبنائے ہرمز میں تیسرے سپر ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کی خطے کے ممالک کو امریکا پر بھروسہ کرنے پر سنگین نتائج کی وارننگ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا عمرہ زائرین کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے: سعودیہ

ٹرمپ انتظایہ کی روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں تیز

Web Desk

13 October 2026

واشنگٹن اور میامی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ روس کو یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں روسی ڈیزل کی عالمی برآمدات سے متعلق معاہدے کو ماسکو کا کٹر مؤقف نرم کرنے کے لیے بطور سفارتی حربہ استعمال کرنے کی اہم تجویز سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی مشرقِ وسطیٰ ایلچی اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) نے میامی میں یوکرینی وفد و اعلیٰ حکام سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران امریکی حکام نے بتایا کہ روسی ڈیزل کی امریکہ اور بین الاقوامی منڈیوں کو روزانہ 22 لاکھ 50 ہزار (2.25 million) بیرل سے زائد فراہمی کا معاہدہ سہ فریقی مذاکراتی عمل کو دوبارہ بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی حکام نے اس دوران یوکرینی وفد پر زور دیا کہ وہ روسی آئل ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات پر ڈرون و میزائل حملے فوری طور پر روکے۔ تاہم یوکرینی وفد نے اس امریکی تجویز سے باضابطہ اتفاق کرنے سے فی الحال انکار کر دیا اور واضح کیا کہ یوکرین اسی صورت میں روسی توانائی کے ڈھانچے پر حملے روکے گا جب روس کی جانب سے بھی جامع جنگ بندی پر واضح آمادگی دکھائی جائے۔ دوسری جانب کریملن سے وابستہ ذرائع کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ڈونباس کے باقی ماندہ 11 فیصد علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کیے بغیر کسی امن معاہدے پر راضی ہونے کے لیے تیار نہیں، جبکہ یوکرین نے اپنا مزید کوئی بھی علاقہ روس کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔