LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا

محبت، احساس اور اپنائیت سے لبریز جذبات کے ترجمان منیر نیازی کی آج 19 ویں برسی

Web Desk

26 December 2025

محبت، احساس اور اپنائیت سے لبریز جذبات کے ترجمان، اردو و پنجابی کے ممتاز شاعر منیر نیازی کی آج 19ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ان کی شاعری میں ماضی کے گمشدہ مناظر، کھوئے ہوئے رشتوں اور زندگی کے تلخ و شیریں احساسات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

منیر نیازی 9 اپریل 1928ء کو ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ بسے۔ انہوں نے اردو شاعری کو منفرد اسلوب اور نئی علامتوں سے روشناس کروایا، خصوصاً جنگل اور فطرت سے جڑی علامات کو بڑی خوبصورتی سے اپنے کلام میں سمویا۔

ان کے اردو شاعری کے 13، پنجابی کے 3 اور انگریزی کے 2 مجموعے شائع ہوئے۔ اردو مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، سفید دن کی ہوا اور ماہِ منیر نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے اور ماضی کی دھند میں لپٹے احساسات کو زندہ کر دیتی ہے۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں منیر نیازی کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ 26 دسمبر 2006ء کو لاہور میں انتقال کر گئے، مگر اپنی لازوال شاعری کے باعث آج بھی دلوں میں زندہ ہیں