LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت: تنزانیہ سے ایل پی جی کا تیسرا بحری جہاز کراچی پہنچ گیا، پورٹ قاسم پر لنگر انداز

Web Desk

19 March 2026

کراچی: پاکستان میں ایل پی جی (LPG) کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تنزانیہ سے ایک اور اہم کارگو کراچی پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ‘ارورا’ (Aurora) نامی بحری جہاز 2,590 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہو گیا ہے، جس سے ملک میں گیس کی سپلائی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

یہ گزشتہ 10 روز کے دوران تنزانیہ سے پاکستان پہنچنے والا ایل پی جی کا تیسرا بڑا کارگو ہے۔ توانائی کے شعبے میں درآمدات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد مقامی ضرورت کو پورا کرنا اور قیمتوں میں استحکام لانا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے 37 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر ایک بحری جہاز پورٹ قاسم پہنچا تھا۔ مسلسل آنے والے ان کارگو سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے، جو صارفین کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔