LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی

وزیراعلیٰ سندھ کی بچوں کے عالمی دن پر واک؛ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف کرنے کا ہدف مقرر

Web Desk

22 November 2025

کراچی میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر نکالی گئی واک کی قیادت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی گئی، جس میں بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف تک کم کر دی جائے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ اگر ان بچوں کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے پانچ برسوں میں یہ تعداد 5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں چائلڈ لیبر کے خلاف خصوصی قانون سازی کی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی نے بھی کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض صوبوں کے قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، تاہم سندھ میں چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے اسکول نہ جانے کی بنیادی وجوہات میں غربت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی شامل ہیں، اسی لیے حکومت نے ڈیجیٹل لرننگ پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کے اجلاس میں سخت قوانین کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ غربت اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے اساتذہ کی نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مگر افسوس کہ سرکاری اساتذہ اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چائلڈ ابیوز کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے کیسز کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی ان واقعات میں کمی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔