LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی افغان سرزمین کا استعمال روکنے کی ذمہ داری طالبان پرعائد ہوتی ہے: وزارت اطلاعات رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 4 مسافر جاں بحق شمالی کوریا کا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کا تجربہ اردن کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان جرمنی میں پولینڈ کے سٹارلنک سیٹلائٹ سٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار صدر ٹرمپ کا سعودیہ پر حملوں پر اظہار تشویش، حوثیوں کا رویہ انتہائی خراب قرار دیدیا سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کا الزام، متعدد امریکی شہری گرفتار غیر قانونی، غیر انسانی حملوں کیخلاف ترکیہ اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: اردگان ٹرمپ انتظایہ کی روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں تیز امریکی فوج کی کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت امریکی ماہرین رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ نے معاشیات کا نوبیل انعام حاصل کر لیا شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کا 78 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے 7 گھنٹے طویل ملاقات، حکومتی مسائل بارے تبادلہ خیال

وزیراعلیٰ سندھ کی بچوں کے عالمی دن پر واک؛ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف کرنے کا ہدف مقرر

Web Desk

22 November 2025

کراچی میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر نکالی گئی واک کی قیادت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی گئی، جس میں بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف تک کم کر دی جائے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ اگر ان بچوں کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے پانچ برسوں میں یہ تعداد 5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں چائلڈ لیبر کے خلاف خصوصی قانون سازی کی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی نے بھی کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض صوبوں کے قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، تاہم سندھ میں چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے اسکول نہ جانے کی بنیادی وجوہات میں غربت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی شامل ہیں، اسی لیے حکومت نے ڈیجیٹل لرننگ پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کے اجلاس میں سخت قوانین کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ غربت اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے اساتذہ کی نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مگر افسوس کہ سرکاری اساتذہ اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چائلڈ ابیوز کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے کیسز کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی ان واقعات میں کمی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔