LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

وزیراعلیٰ سندھ کی بچوں کے عالمی دن پر واک؛ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف کرنے کا ہدف مقرر

Web Desk

22 November 2025

کراچی میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر نکالی گئی واک کی قیادت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی گئی، جس میں بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف تک کم کر دی جائے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ اگر ان بچوں کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے پانچ برسوں میں یہ تعداد 5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں چائلڈ لیبر کے خلاف خصوصی قانون سازی کی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی نے بھی کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض صوبوں کے قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، تاہم سندھ میں چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے اسکول نہ جانے کی بنیادی وجوہات میں غربت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی شامل ہیں، اسی لیے حکومت نے ڈیجیٹل لرننگ پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کے اجلاس میں سخت قوانین کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ غربت اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے اساتذہ کی نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مگر افسوس کہ سرکاری اساتذہ اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چائلڈ ابیوز کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے کیسز کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی ان واقعات میں کمی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔