LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ

وزیراعلیٰ سندھ کی بچوں کے عالمی دن پر واک؛ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف کرنے کا ہدف مقرر

Web Desk

22 November 2025

کراچی میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر نکالی گئی واک کی قیادت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس کی صدارت بھی کی گئی، جس میں بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد نصف تک کم کر دی جائے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ اگر ان بچوں کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے پانچ برسوں میں یہ تعداد 5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں چائلڈ لیبر کے خلاف خصوصی قانون سازی کی گئی ہے جبکہ قومی اسمبلی نے بھی کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض صوبوں کے قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، تاہم سندھ میں چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں کے اسکول نہ جانے کی بنیادی وجوہات میں غربت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی شامل ہیں، اسی لیے حکومت نے ڈیجیٹل لرننگ پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز کے اجلاس میں سخت قوانین کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، کیونکہ غربت اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے اساتذہ کی نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مگر افسوس کہ سرکاری اساتذہ اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ ان کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو تعلیم دینا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ چائلڈ ابیوز کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے کیسز کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن جب تک سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی ان واقعات میں کمی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو چائلڈ ابیوز سے بچنے کی تربیت اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے۔