LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار مغرب یوکرینیوں کی لاشیں استعمال کرکے روس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے: سرگئی لاوروف پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی: وزیراعظم آزاد کشمیر کابینہ کمیٹی اجلاس: ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری بھارتی آبی دہشت گردی، دریائے چناب کا پانی روک لیا گیا بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: عابد شیر علی کرک میں کھیل کے میدان میں فائرنگ، سب انسپکٹر ایف آئی اے جاں بحق

شگر کے دو نوجوانوں نے نانگا پربت سر کر کے قومی پرچم لہرا دیا

Web Desk

1 July 2026

گلگت بلتستان کے ضلع شگر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان کوہ پیماؤں نے کوہِ ہمالیہ کے فلک بوس پہاڑ اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ’نانگا پربت‘ کو کامیابی سے سر کر کے ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، شگر کے خوبصورت گاؤں ‘ارندو باشہ’ کے رہائشی دو نوجوان کوہ پیماؤں، محبوب علی اور عباس علی نے ’14 Peaks Expeditions’ کی تجربہ کار ٹیم کے ہمراہ مہم جوئی کا آغاز کیا اور تمام تر چیلنجز کو عبور کرتے ہوئے 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کی چوٹی پر قدم رکھ دیا۔ دونوں کوہ پیماؤں نے چوٹی پر پہنچتے ہی فخر سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔

واضح رہے کہ نانگا پربت کو اپنی انتہائی مشکل چڑھائی، سخت ترین موسم اور برفانی تودوں کے گرنے کے خطرات کے باعث دنیا بھر میں “قاتل پہاڑ” (Killer Mountain) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں اس خطرناک چوٹی کو سر کرنا ایک غیر معمولی اور بہت بڑی تاریخی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔

اس شاندار کامیابی کی خبر پھیلتے ہی شگر، گلگت بلتستان اور ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے محبوب علی اور عباس علی کی اس جرات مندانہ کامیابی کو زبردست الفاظ میں سراہا جا رہا ہے اور انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ اہل علم اور علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ہیرو بحفاظت بیس کیمپ واپس پہنچیں گے، اور ان کا یہ کارنامہ گلگت بلتستان کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ثابت ہوگا۔