LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کیٹ میڈلٹن نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیاں سر کرلیں چیٹ جی پی ٹی کو امریکی شہری نے عدالت میں گھسیٹ لیا، سنگین الزمات جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل، رشاف قصبے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں کینیا اسکول کی 8 لڑکیوں پر ساتھی طالبات کے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد 40 سال بعد فیفا ورلڈکپ کے پری کوارٹر فائنل میں پہنچنے پر میکسیکو میں جشن، دم گھٹنے سے 3 افراد جان سے گئے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کیلئے امریکہ و اسرائیل میں معاہدے پر دستخط کراچی میں بارشیں 584 مخدوش رہائشی عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ روس اور بحرین کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خلیجی صورتحال پر تبادلہ خیال امریکی نیوی کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کردیا وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 2000 سے تجاوز کرگئیں ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ کراچی میں شاہین فورس کا کامیاب آپریشن، مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو ہلاک پاک چین دوستی نسلوں پر محیط، سی پیک سے تعاون مزید مضبوط ہوگا: چینی سفیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا وژن چین کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے: اسحاق ڈار

کراچی میں بارشیں 584 مخدوش رہائشی عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ

Web Desk

1 July 2026

شہرِ قائد کے باسیوں کو مون سون کی ممکنہ طوفانی بارشوں کے دوران کسی بھی بڑے حادثے یا نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ نے شہر بھر کی مخدوش اور خستہ حال عمارتوں کو فوری طور پر خالی کروانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں کمشنر کراچی حسن نقوی کی زیرِ صدارت ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بارشوں کے دوران شہر کی انتظامی صورتحال پر قابو پانے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے شہر کی انتہائی مخدوش رہائشی عمارتوں کو فی الفور خالی کرایا جائے۔

اجلاس کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے حکام نے کمشنر کراچی کو شہر کی خستہ حال عمارتوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی بھر میں اس وقت 584 مخدوش عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے 59 عمارتیں انتہائی مخدوش اور خطرناک حالت میں ہیں اور ان میں 29 تاریخی (Heritage) عمارتیں بھی شامل ہیں۔

کمشنر کراچی حسن نقوی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ان عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے فوری طور پر قانونی نوٹسز جاری کیے جائیں اور مکینوں کی باقاعدہ آگاہی کے لیے ان نوٹسز کو اخبارات و دیگر ذرائع سے مشتہر بھی کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ کراچی کی مخدوش عمارتوں میں سے 90 فیصد سے زائد عمارتیں صرف ضلع جنوبی (ڈسٹرکٹ ساؤتھ) میں واقع ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع جنوبی  میں  442 مخدوش عمارتیں، ضلع وسطی میں 73 مخدوش عمارتیں، ضلع کیماڑی میں 28 مخدوش عمارتیں، ضلع کورنگی میں 18 مخدوش عمارتیں، ضلع شرقی میں16  مخدوش عمارتیں، ضلع ملیر میں 5 مخدوش عمارتیں اور ضلع غربی میں 2 مخدوش عمارتیں موجود ہیں

کمشنر کراچی نے ایس بی سی اے کو حکم دیا کہ وہ انتہائی خطرناک عمارتوں کی فہرست فوری طور پر تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز (DCs) کو فراہم کریں۔ اجلاس میں یہ سخت فیصلہ بھی کیا گیا کہ ان عمارتوں کو ان کی مخدوش نوعیت کے لحاظ سے مرحلہ وار منہدم (Demolish) کیا جائے گا، جبکہ سرکاری نوٹسز پر عمل درآمد نہ کرنے اور عمارتیں خالی نہ کرنے کی صورت میں ان مخدوش عمارتوں کے بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن فوری طور پر منقطع کر دیے جائیں گے۔