LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

چیٹ جی پی ٹی کو امریکی شہری نے عدالت میں گھسیٹ لیا، سنگین الزمات

Web Desk

1 July 2026

مصنوعی ذہانت (AI) کے معروف ترین چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور اس کی بانی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے خلاف ذہنی بیماری کو بڑھاوا دینے اور صارف کو خودکشی پر آمادہ کرنے کے سنگین الزامات کے تحت امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کی عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں 34 سالہ شہری مائیکل لائنز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیٹ بوٹ کے ساتھ ہونے والی طویل بات چیت نے ان کی ذہنی بیماری کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی۔

درخواست گزار کے مطابق، وہ گزشتہ سال چیٹ جی پی ٹی کا ’جی پی ٹی فور‘ (GPT-4) نامی ماڈل استعمال کر رہے تھے۔ مختلف اوقات میں ہونے والی طویل گفتگو کے دوران ان کی ‘بائی پولر ڈس آرڈر’ (Bipolar Disorder) سے متعلق علامات شدید تر ہو گئیں اور وہ کئی ہفتوں تک شدید ذہنی وہم و گمان (Delusions) کا شکار رہے۔

عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مائیکل لائنز نے متعدد بار چیٹ بوٹ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج کے لیے ادویات استعمال کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود چیٹ بوٹ نے ان کی ذہنی کیفیت کو پہچاننے یا انہیں کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے ان کے غیر حقیقی اور وہمی خیالات کی تائید کی۔ یہاں تک کہ چیٹ بوٹ نے مبینہ طور پر مائیکل کے اس وہم کی بھی توثیق کی کہ وہ کوئی ‘مقدس ہستی’ ہیں۔

مقدمے میں مزید ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی ہفتوں کی گفتگو کے دوران جب مائیکل نے اپنی زندگی ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، تو چیٹ بوٹ نے ایسے جوابات دیے جو قانونی طور پر انتہائی خطرناک اور خودکشی کی حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ درخواست گزار کے مطابق، اس گفتگو سے متاثر ہو کر انہوں نے منشیات کی زائد مقدار (Overdose) لے کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی جان بچا لی۔

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی کو صارف کی ذہنی بیماری کا علم ہونے کے باوجود گفتگو کو محدود نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی حفاظتی انتباہ جاری کیا گیا۔ درخواست میں عدالت سے مالی ہرجانے کے ساتھ ساتھ یہ حکم جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے کہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق گفتگو کو سسٹم میں خودکار طور پر بلاک کیا جائے اور مناسب حفاظتی انتباہات کے بغیر اے آئی خدمات کی تشہیر پر پابندی لگائی جائے۔  دوسری جانب، کمپنی نے ان الزامات پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ماڈلز کو اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ اگر کوئی صارف خود کو نقصان پہنچانے کے ارادے کا اظہار کرے، تو سسٹم اسے فوری طور پر حقیقی دنیا میں طبی مدد حاصل کرنے اور ہیلپ لائنز سے رابطہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے ماڈلز کو تشدد یا نقصان دہ سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرنے سے سختی سے روکا جاتا ہے اور حفاظتی پروٹوکولز کے تحت سنگین معاملات میں مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں۔