خلیج فارس: امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین کی بھی انٹری
Web Desk
18 February 2026
خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے بعد روس اور چین نے بھی اپنے بحری بیڑے تعینات کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
روسی صدارتی معاون کے ایک حالیہ انٹرویو کے مطابق روس اور چین، ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے۔ان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد دوست ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کی بحری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ خطے میں بڑی طاقتوں کی بحری موجودگی کو ماہرین جغرافیائی و سیاسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی
31 August 2026
سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف
31 August 2026
خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
31 August 2026
عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد
31 August 2026
معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ
31 August 2026
جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر
31 August 2026
پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا
31 August 2026
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی
31 August 2026