LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ مؤخر امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی نیویارک: اسرائیل کیخلاف مظاہرے پر امریکی اداکارہ گرفتار مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی سلامتی کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے میں جارحیت ناکام بنادی، کئی طالبان ہلاک ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا، ایرانی صدر چین اور امریکا اپنی عوام کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ امریکا، ایران کی ڈیڈ لاک ختم کرنیکی کوششیں، جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر غور لبنانی وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، خودمختاری کے احترام پر زور

شاعر جوش ملیح آبادی کا 127واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

5 December 2025

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء کو ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام شبیر حسن خاں جبکہ جوش قلمی نام تھا، وہ ملیح آباد کے رہنے والے تھے اس لیے اسے اپنے نام کا حصہ بنا لیا، جوش تقسیم ہند کے بعد ترک سکونت کرکے کراچی قیام پذیر ہوگئے۔

جوش ملیح آبادی قادر الکلام شاعر تھے جنہیں الفاظ کا سمندر کہا جاتا تھا، انہوں نے پہلا شعر محض 9 برس کی عمر میں کہا تھا، انہیں اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔جوش ملیح آبادی شاعری کی کثیر کتب کے مصنف تھے، ان کی معرکۃ الآرا تصانیف میں شعلہ و شبنم، جنون و حکمت، فکرو نشاط، عروس ادب، حرف و حکایت، روح ادب، آوارہ حق، سنبل و سلاسل اور ان کی خود نوشت سوانح یادوں کی برات قابل ذکر ہیں۔جوش ملیح آبادی شاعر بھی تھے، مجاہد آزادی بھی، اچھے نثر نگار بھی، مدیر بھی، نغمہ نگار بھی اور بہت اچھے صحافی بھی، جوش 1948ء میں رسالہ ’آج کل‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور 1955ء تک اس سے جڑے رہے۔