LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

شاعر جوش ملیح آبادی کا 127واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

5 December 2025

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء کو ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام شبیر حسن خاں جبکہ جوش قلمی نام تھا، وہ ملیح آباد کے رہنے والے تھے اس لیے اسے اپنے نام کا حصہ بنا لیا، جوش تقسیم ہند کے بعد ترک سکونت کرکے کراچی قیام پذیر ہوگئے۔

جوش ملیح آبادی قادر الکلام شاعر تھے جنہیں الفاظ کا سمندر کہا جاتا تھا، انہوں نے پہلا شعر محض 9 برس کی عمر میں کہا تھا، انہیں اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔جوش ملیح آبادی شاعری کی کثیر کتب کے مصنف تھے، ان کی معرکۃ الآرا تصانیف میں شعلہ و شبنم، جنون و حکمت، فکرو نشاط، عروس ادب، حرف و حکایت، روح ادب، آوارہ حق، سنبل و سلاسل اور ان کی خود نوشت سوانح یادوں کی برات قابل ذکر ہیں۔جوش ملیح آبادی شاعر بھی تھے، مجاہد آزادی بھی، اچھے نثر نگار بھی، مدیر بھی، نغمہ نگار بھی اور بہت اچھے صحافی بھی، جوش 1948ء میں رسالہ ’آج کل‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور 1955ء تک اس سے جڑے رہے۔