LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کراچی پہنچ گئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، امریکا جہازوں کو غلط ضمانتیں دے رہا ہے: ایران این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ پنجاب اسمبلی میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد حقوق کے حصول کیلئے آ رہی ہے: بیرسٹر گوہر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں: مصدق ملک غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری اور فائرنگ، 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن

شاعر جوش ملیح آبادی کا 127واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

5 December 2025

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء کو ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام شبیر حسن خاں جبکہ جوش قلمی نام تھا، وہ ملیح آباد کے رہنے والے تھے اس لیے اسے اپنے نام کا حصہ بنا لیا، جوش تقسیم ہند کے بعد ترک سکونت کرکے کراچی قیام پذیر ہوگئے۔

جوش ملیح آبادی قادر الکلام شاعر تھے جنہیں الفاظ کا سمندر کہا جاتا تھا، انہوں نے پہلا شعر محض 9 برس کی عمر میں کہا تھا، انہیں اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔جوش ملیح آبادی شاعری کی کثیر کتب کے مصنف تھے، ان کی معرکۃ الآرا تصانیف میں شعلہ و شبنم، جنون و حکمت، فکرو نشاط، عروس ادب، حرف و حکایت، روح ادب، آوارہ حق، سنبل و سلاسل اور ان کی خود نوشت سوانح یادوں کی برات قابل ذکر ہیں۔جوش ملیح آبادی شاعر بھی تھے، مجاہد آزادی بھی، اچھے نثر نگار بھی، مدیر بھی، نغمہ نگار بھی اور بہت اچھے صحافی بھی، جوش 1948ء میں رسالہ ’آج کل‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور 1955ء تک اس سے جڑے رہے۔