LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

آکسفورڈ یونین کے مباحثے میں پاکستان کی بڑی فتح، بھارتی وفد عین وقت پر فرار

Web Desk

27 November 2025

پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح ملی، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہو گیا۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن موجود تھے، بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق اپنے مصدقہ سپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی۔آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا۔قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کیپاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی۔بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں، آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارت کی نام نہادسکیورٹی پالیسی“ آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی۔بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا، میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے۔