LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی ایران 20 سال تک جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے تعمیری ملاقاتیں، کشیدگی میں کمی پر غور چین کا اسرائیل، فلسطین امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ سعودیہ اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا ایران کا امریکی توانائی مراکز کو نشانہ بنانے کا انتباہ برطانیہ، فرانس کا یوکرین کی فوجی مدد بڑھانے کا اعلان روس کا برطانیہ پر یوکرین جنگ میں براہِ راست شریک ہونے کا الزام امریکا جانتا اس کی دھمکیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا: باقر قالیباف

آکسفورڈ یونین کے مباحثے میں پاکستان کی بڑی فتح، بھارتی وفد عین وقت پر فرار

Web Desk

27 November 2025

پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح ملی، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردار ہو گیا۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن موجود تھے، بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق اپنے مصدقہ سپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی۔آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا۔قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کیپاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی۔بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں، آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارت کی نام نہادسکیورٹی پالیسی“ آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی۔بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا، میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے۔