LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہوگی، محمد مخبر محسن نقوی صاحب سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں، خواجہ آصف امریکی حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا، ایران نے ترکیہ اور سعودیہ کو آگاہ کر دیا پیرو میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، سفر کرنے والے تمام 13 افراد ہلاک ایران کا خلیجی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی سہولت کاری پر سخت انتباہ مزید جنگی جہاز نہ ملے تو امریکا یا اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: امریکی جنرل نے خبردار کردیا امریکی ویزا بانڈ پروگرام کے حوالے سے اہم فیصلہ میں ایرانی کرنسی کو تباہ کر رہا ہوں، صدر ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر پیغام صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین محسن نقوی کے خیالات سے کم و بیش اتفاق، اصلاحات کا فورم پارلیمنٹ ہے: خواجہ آصف شکارپور کی قومی شاہراہ پر ہولناک حادثہ، 2 نوجوان جاں بحق، ٹینکر ڈرائیور گرفتار آزاد کشمیر میں حکومت سازی : ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا تیسرا مذاکراتی دور مکمل شکارپور میں ٹول ٹیکس تنازع پر بس ڈرائیور نے ملازم کو کچل دیا ہاکی ٹیسٹ سیریز: گرین شرٹس نے جنوبی کوریا کو مسلسل دوسری بار شکست دے دی

طاقتور حلقوں کے ہاتھوں معاشی پالیسیاں یرغمال،پاکستان میں ہرسطح پر بدعنوانی، آئی ایم ایف رپورٹ

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے ہر درجے پر بدعنوانی موجود ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ کرپشن وہ ہے جو طاقتور اور مراعات یافتہ حلقے اہم معاشی شعبوں پر اثر انداز ہو کر کرتے ہیں، جن میں ریاستی ملکیتی یا ریاستی سرپرستی یافتہ ادارے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں بدعنوانی کی حقیقی مقدار ناپنے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں، تاہم نیب کی جانب سے صرف پچھلے دو سال میں 5,300 ارب روپے کی ریکوریز اس کا اہم اشارہ ہیں، اور یہ ریکوریز بدعنوانی کے مجموعی معاشی اثرات کا صرف ایک پہلو ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے رپورٹ تین ماہ کی تاخیر کے بعد آئی ایم ایف کی شرط پر جاری کی تاکہ ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں 1.2 ارب ڈالر کی دو قسطوں کی منظوری دی جا سکے۔ آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ جامع گورننس اصلاحات کے نفاذ سے پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ سال میں 5 سے 6.5 فیصد اضافی جی ڈی پی حاصل کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آج 70 سال بعد بھی بدعنوانی ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جو سرکاری رقوم کے ضیاع، مارکیٹ میں بگاڑ، غیر منصفانہ مسابقت، عوامی اعتماد میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ شہری عام طور پر سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہیں، اور پالیسی سازی پر سیاسی و معاشی اشرافیہ کا گہرا اثر ہے جو سرکاری طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عدلیہ کی کمزوریاں اور احتسابی اداروں کی غیر موثریت بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہیں۔

رپورٹ میں 2019 میں پی ٹی آئی دور حکومت کے دوران چینی کی برآمد کی اجازت کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ کس طرح بااثر کاروباری ادارے اور سرکاری عہدیدار پالیسیاں اپنے فائدے کے لیے موڑ لیتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق شوگر مل مالکان نے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قیمتوں میں اضافہ اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کمائے، جبکہ عوام قیمتوں کے بحران کا شکار رہے اور موثر احتساب نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف نے عدلیہ کے حوالے سے تجویز دی کہ ججوں کی کارکردگی اور اخلاقی معیار کی نگرانی کا نظام مضبوط بنایا جائے۔ رپورٹ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر شفاف اصول نہ بنائے گئے تو عدلیہ کی آزادی پر خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ٹیکس نظام کی پیچیدگی، سرکاری اخراجات میں کمزوریاں، پبلک پروکیورمنٹ اور ریاستی اداروں کی نگرانی کا فقدان ملک میں بدعنوانی کے بڑے محرکات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی نہ صرف عوامی خدمات کو متاثر کرتی ہے، بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔