LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق سرکاری حج سکیم: دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ میں ایک روز کی توسیع نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ، اضافی ٹیکس کی تجویز اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم اسحاق ڈار سے صدر مالدیپ کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش مدینہ منورہ اور مشرقی علاقوں کی جانب آنیوالے 5 ڈرونز تباہ کر دیئے: سعودی فوجی اتحاد ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنے کی پیشگوئی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں: عباس عراقچی امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا: وائٹ ہاؤس راجن پور میں خوفناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 9 افراد جاں بحق، 36 زخمی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کا سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان

طاقتور حلقوں کے ہاتھوں معاشی پالیسیاں یرغمال،پاکستان میں ہرسطح پر بدعنوانی، آئی ایم ایف رپورٹ

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے ہر درجے پر بدعنوانی موجود ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ کرپشن وہ ہے جو طاقتور اور مراعات یافتہ حلقے اہم معاشی شعبوں پر اثر انداز ہو کر کرتے ہیں، جن میں ریاستی ملکیتی یا ریاستی سرپرستی یافتہ ادارے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں بدعنوانی کی حقیقی مقدار ناپنے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں، تاہم نیب کی جانب سے صرف پچھلے دو سال میں 5,300 ارب روپے کی ریکوریز اس کا اہم اشارہ ہیں، اور یہ ریکوریز بدعنوانی کے مجموعی معاشی اثرات کا صرف ایک پہلو ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے رپورٹ تین ماہ کی تاخیر کے بعد آئی ایم ایف کی شرط پر جاری کی تاکہ ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں 1.2 ارب ڈالر کی دو قسطوں کی منظوری دی جا سکے۔ آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ جامع گورننس اصلاحات کے نفاذ سے پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ سال میں 5 سے 6.5 فیصد اضافی جی ڈی پی حاصل کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آج 70 سال بعد بھی بدعنوانی ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جو سرکاری رقوم کے ضیاع، مارکیٹ میں بگاڑ، غیر منصفانہ مسابقت، عوامی اعتماد میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ شہری عام طور پر سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہیں، اور پالیسی سازی پر سیاسی و معاشی اشرافیہ کا گہرا اثر ہے جو سرکاری طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عدلیہ کی کمزوریاں اور احتسابی اداروں کی غیر موثریت بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہیں۔

رپورٹ میں 2019 میں پی ٹی آئی دور حکومت کے دوران چینی کی برآمد کی اجازت کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ کس طرح بااثر کاروباری ادارے اور سرکاری عہدیدار پالیسیاں اپنے فائدے کے لیے موڑ لیتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق شوگر مل مالکان نے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قیمتوں میں اضافہ اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کمائے، جبکہ عوام قیمتوں کے بحران کا شکار رہے اور موثر احتساب نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف نے عدلیہ کے حوالے سے تجویز دی کہ ججوں کی کارکردگی اور اخلاقی معیار کی نگرانی کا نظام مضبوط بنایا جائے۔ رپورٹ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر شفاف اصول نہ بنائے گئے تو عدلیہ کی آزادی پر خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ٹیکس نظام کی پیچیدگی، سرکاری اخراجات میں کمزوریاں، پبلک پروکیورمنٹ اور ریاستی اداروں کی نگرانی کا فقدان ملک میں بدعنوانی کے بڑے محرکات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی نہ صرف عوامی خدمات کو متاثر کرتی ہے، بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔