طاقتور حلقوں کے ہاتھوں معاشی پالیسیاں یرغمال،پاکستان میں ہرسطح پر بدعنوانی، آئی ایم ایف رپورٹ
Web Desk
20 November 2025
اسلام آباد : آئی ایم ایف کی 186 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے ہر درجے پر بدعنوانی موجود ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ کرپشن وہ ہے جو طاقتور اور مراعات یافتہ حلقے اہم معاشی شعبوں پر اثر انداز ہو کر کرتے ہیں، جن میں ریاستی ملکیتی یا ریاستی سرپرستی یافتہ ادارے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں بدعنوانی کی حقیقی مقدار ناپنے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں، تاہم نیب کی جانب سے صرف پچھلے دو سال میں 5,300 ارب روپے کی ریکوریز اس کا اہم اشارہ ہیں، اور یہ ریکوریز بدعنوانی کے مجموعی معاشی اثرات کا صرف ایک پہلو ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے رپورٹ تین ماہ کی تاخیر کے بعد آئی ایم ایف کی شرط پر جاری کی تاکہ ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں 1.2 ارب ڈالر کی دو قسطوں کی منظوری دی جا سکے۔ آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ جامع گورننس اصلاحات کے نفاذ سے پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ سال میں 5 سے 6.5 فیصد اضافی جی ڈی پی حاصل کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آج 70 سال بعد بھی بدعنوانی ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جو سرکاری رقوم کے ضیاع، مارکیٹ میں بگاڑ، غیر منصفانہ مسابقت، عوامی اعتماد میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔
آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا کہ شہری عام طور پر سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہیں، اور پالیسی سازی پر سیاسی و معاشی اشرافیہ کا گہرا اثر ہے جو سرکاری طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عدلیہ کی کمزوریاں اور احتسابی اداروں کی غیر موثریت بھی بدعنوانی کو فروغ دیتی ہیں۔
رپورٹ میں 2019 میں پی ٹی آئی دور حکومت کے دوران چینی کی برآمد کی اجازت کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ کس طرح بااثر کاروباری ادارے اور سرکاری عہدیدار پالیسیاں اپنے فائدے کے لیے موڑ لیتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق شوگر مل مالکان نے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قیمتوں میں اضافہ اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کمائے، جبکہ عوام قیمتوں کے بحران کا شکار رہے اور موثر احتساب نہیں ہوا۔
آئی ایم ایف نے عدلیہ کے حوالے سے تجویز دی کہ ججوں کی کارکردگی اور اخلاقی معیار کی نگرانی کا نظام مضبوط بنایا جائے۔ رپورٹ میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر شفاف اصول نہ بنائے گئے تو عدلیہ کی آزادی پر خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ٹیکس نظام کی پیچیدگی، سرکاری اخراجات میں کمزوریاں، پبلک پروکیورمنٹ اور ریاستی اداروں کی نگرانی کا فقدان ملک میں بدعنوانی کے بڑے محرکات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی نہ صرف عوامی خدمات کو متاثر کرتی ہے، بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
پنجاب میں بارشوں کا الرٹ جاری: پی ڈی ایم اے کی شہریوں اور کسانوں کو احتیاط کی ہدایت
13 March 2026
ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس
13 March 2026
فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار
13 March 2026
لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید
13 March 2026
کراچی اور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی بولان میل اچانک معطل
13 March 2026
اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت
13 March 2026
توانائی بچت اقدامات: پنجاب میں سرکاری دفاتر کے اوقات کار محدود
13 March 2026
پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری
13 March 2026