LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

پاکستان میں آئینی ترامیم بین الاقوامی ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کو سخت تشویش

Web Desk

28 November 2025

بین الاقوامی ہیومین رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) نے پاکستان میں حال ہی میں منظور کی گئی آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات کی مکمل پیروی کرتی ہے۔

IHRF کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر ادارے نے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ متنازعہ آئینی ترامیم نافذ کر دی گئیں تو انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، مختلف بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی ان ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتے ہیں، فوجی احتساب پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں عدلیہ سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹو کنٹرول کے زیرِ اثر آ سکتی ہے، جس کے جمہوری اصولوں اور عوامی حقوق پر دور رس منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔