LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار پیپلز پارٹی کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کررہی ہے، عظمیٰ بخاری کا الزام بلاول بھٹو کی کشمیریوں سے بذریعہ ووٹ فیصلہ کرنے کی اپیل بانی پی ٹی آئی رہائی فورس معاملہ: سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر

پاکستان میں آئینی ترامیم بین الاقوامی ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کو سخت تشویش

Web Desk

28 November 2025

بین الاقوامی ہیومین رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) نے پاکستان میں حال ہی میں منظور کی گئی آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات کی مکمل پیروی کرتی ہے۔

IHRF کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد شواہد سامنے آئے ہیں، جن پر ادارے نے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ متنازعہ آئینی ترامیم نافذ کر دی گئیں تو انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، مختلف بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی ان ترامیم پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتے ہیں، فوجی احتساب پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں عدلیہ سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹو کنٹرول کے زیرِ اثر آ سکتی ہے، جس کے جمہوری اصولوں اور عوامی حقوق پر دور رس منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔