سانحہ گل پلازہ: چالان پراسیکیوشن کو جمع، مارکیٹ یونین عہدیداران ملزم نامزد
Web Desk
29 June 2026
کراچی: سانحہ گل پلازہ کیس میں ایک انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مقدمے کی جامع تزویراتی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد حتمی چالان باقاعدہ طور پر محکمہ پراسیکیوشن کے پاس جمع کروا دیا ہے۔ جمع کرائی گئی آفیشل تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، گل پلازہ میں لگنے والی ہلاک خیز آگ کو مکمل طور پر ایک حادثہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ فرانزک رپورٹ میں بھی پلازہ کے اندر کسی بھی قسم کے بارودی یا دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی صریحاً نفی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پولیس نے اس سانحے میں مجرمانہ غفلت برتنے پر دکاندار نعمت اللہ اور ان کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ سمیت گل پلازہ مارکیٹ کمیٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کو مقدمے میں باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا ہے۔ نامزد ملزمان میں مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکرٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکرٹری محمد رمضان شامل ہیں، جبکہ پولیس نے چالان میں ان تمام مروجہ ملزمان کو مفرور (Absconders) قرار دیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے سائنسی اعداد و شمار کے مطابق، اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 72 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 4 لاشوں کے باقیات تاحال ناقابلِ شناخت ہونے کے باعث کسی وارث نے حاصل نہیں کیے؛ دورانِ تفتیش واقعے کے 4 اہم عینی شاہدین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مروجہ بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری (PFSL) کی جاری کردہ تکنیکی رپورٹ کے مطابق، جائے وقوعہ سے حاصل کردہ نمونوں میں کوئی کیمیکل یا دھماکہ خیز مواد نہیں پایا گیا، بلکہ آگ لگنے کی شروعات دکان نمبر 193 سے ہوئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دکان کے مالک نعمت اللہ اکثر اوقات دکان اپنے 11 سالہ کم عمر بیٹے کے سپرد کر کے چلے جاتے تھے، اور واقعے کے روز بچے حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکنے کے باعث دکان میں موجود مصنوعی پھولوں (Artificial Flowers) نے فوری آگ پکڑ لی، جس سے نعمت اللہ اور ان کا بیٹا سنگین غفلت و لاپرواہی کے مرتکب پائے گئے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مارکیٹ انتظامیہ کے تزویراتی کردار اور مجرمانہ چشم پوشی پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں؛ رپورٹ کے مطابق:
-
ایک کم عمر بچے کو دکان پر تجارتی کام کرنے سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی کھلی غفلت تھی.
-
آتشزدگی کے فوری بعد مارکیٹ یونین کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کی گئی اور نہ ہی ریسکیو اداروں سے بروقت مدد طلب کی گئی.
-
حادثے کے وقت گل پلازہ کے تمام مرکزی ایگزٹ گیٹ مکمل بند تھے اور یونین نے انہیں فوری طور پر نہیں کھلوایا، جس کے باعث دروازے بند ہونے سے مروجہ پبلک کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
-
مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کر کے علاقے کی بجلی تو بند کروا دی، تاہم متبادل لائٹنگ نہ ہونے اور اندھیرے کی وجہ سے لوگ مارکیٹ کی راہداریوں کے اندر ہی بری طرح پھنس کر رہ گئے، جو اتنی بڑی تعداد میں جانی نقصان کی بڑی وجہ بنا.
پراسیکیوشن اب پولیس کی اس تفصیلی چالان رپورٹ کا قانونی جائزہ لے کر اسے مروجہ عدالت کے روبرو سماعت کے لیے پیش کرے گی۔
متعلقہ عنوانات
قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر
29 June 2026
مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے
29 June 2026
جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل
29 June 2026
ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی
29 June 2026
کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار
29 June 2026
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع
29 June 2026
سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور
29 June 2026
پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان
29 June 2026