LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو

لاہور ہائیکورٹ: آئی جی پنجاب کو فوری کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹس تبدیل کرنے کی ہدایت

Web Desk

29 June 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے واضح عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں مطلوبہ قانونی و تزویراتی ترمیم نہ کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کو فوری طور پر کریکٹر سرٹیفکیٹ کے مروجہ فارمیٹس تبدیل کرنے کی سخت ہدایت کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ مختلف مقدمات میں سزا یافتہ (Convicted) اور عدالتوں سے باقاعدہ بری ہونے والے (Acquitted) افراد کے لیے الگ الگ فارمیٹس وضع ہونے چاہئیں، تاکہ کسی بھی بے گناہ اور قانون پسند شخص کے سماجی و پیشہ ورانہ ریکارڈ پر مجرمانہ داغ نہ لگے۔

لاہور ہائیکورٹ کی معزز جج جسٹس عبہر گل خان نے مبشر نامی شہری کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی ایک اہم درخواست پر سماعت کی؛ عدالتی حکم کی تعمیل میں آئی جی پنجاب پولیس اور ڈی آئی جی آئی ٹی منصور الحق سمیت دیگر اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل متعلقہ مقدمے سے باقاعدہ بری ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود درخواست گزار کا نام پولیس کے کریمنل ریکارڈ سے نہیں نکالا گیا، حالانکہ عدالتِ عالیہ پہلے ہی اس کا ریکارڈ فوری درست کرنے کا حکم دے چکی تھی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی اور عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی آئی جی آئی ٹی منصور الحق سمیت دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

سماعت کے دوران معزز عدالت نے موجودہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مروجہ نظام میں خامیوں کی وجہ سے بری ہونے والے شہریوں کو بھی مجرم ظاہر کر دیا جاتا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے؛ لہٰذا سزا یافتہ اور غیر سزا یافتہ افراد کے لیے الگ الگ کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کا پورا نظام اس وقت ڈیجیٹل اور آٹومیٹڈ (Automated) ہے، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ کریمنل افراد کے لیے الگ سے پروفرما تیار کر کے صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران (DPOs) کو فوری بھجوایا جائے اور عدالتی گائیڈ لائنز کے مطابق ریکارڈ کو درست کیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے فارمیٹس میں ضروری ترمیم کی حتمی ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کر دی۔