LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
الیکشن کمیشن کا پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا فیصلہ پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کی دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشق اختتام پذیر انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ اور وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے: چیف جسٹس آزاد کشمیر کابل میں چائے پینے کے بعد دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: اسحاق ڈار مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا کروز میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا ہماری پوری کوشش تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو: محسن نقوی احد چیمہ کی ایم ڈی آپریشنز ورلڈ بینک سے ملاقات، پاکستان کے ترقیاتی اہداف پر اہم تبادلہ خیال روسی وزیرِ داخلہ پاکستان کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی منظوری پشاور دیر کالونی اسکول حادثہ: ایل آر ایچ اسپتال میں 33 افراد جاں بحق اور 20 زخمی لائے گئے، ترجمان کے پی ایمرجنسی مارشل لاء سے بدتر، تمام طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو تو غیر مشروط مذاکرات کو تیار ہیں: محمود خان اچکزئی برطانیہ: منشیات اور منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائی، خاتون سمیت 12 افراد کو 100 سال سے زائد قید کی سزا بیرسٹر گوہر کا عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے اظہار لاتعلقی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کردی جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا

سعودی عرب کا ابراہیمی معاہدے میں دلچسپی، دو ریاستی حل کی حمایت ، محمد بن سلمان

Web Desk

18 November 2025

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ریاض خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے اور فلسطین و اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل سمیت ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا اور ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق بھی مثبت پیش رفت کی کوشش جاری رکھے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ابراہیمی معاہدے پر “بہت مثبت بات چیت” ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر پیش رفت ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ریاض ایف-35 لڑاکا طیارے بھی حاصل کرے گا، جو اسرائیل کی طرح سعودی عرب کے لیے بھی اہم قرار دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کے اپنے کردار کا حوالہ بھی دیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر نے شہزادہ محمد بن سلمان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے سعودی ولی عہد کو سلامی دی۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ عالمی امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور سعودی سرمایہ کاری مزید بڑھائی جائے گی۔

میڈیا بریفنگ کے دوران جب امریکی صدر سے جمال خاشقجی کے قتل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد اس واقعے سے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات میں محمد بن سلمان ’’قابلِ تحسین اقدامات‘‘ کر رہے ہیں اور امریکا سعودی عرب کو ایڈوانس چپس فراہم کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ شام سے متعلق معاملات میں ’’اہم پیشرفت‘‘ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے شام پر عائد کچھ پابندیاں ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔

دوسری جانب محمد بن سلمان نے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی خبر انتہائی افسوسناک تھی۔