LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

سعودی عرب کا ابراہیمی معاہدے میں دلچسپی، دو ریاستی حل کی حمایت ، محمد بن سلمان

Web Desk

18 November 2025

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ریاض خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے اور فلسطین و اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل سمیت ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کا خواہش مند ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے کردار ادا کرے گا اور ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق بھی مثبت پیش رفت کی کوشش جاری رکھے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ابراہیمی معاہدے پر “بہت مثبت بات چیت” ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر پیش رفت ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ریاض ایف-35 لڑاکا طیارے بھی حاصل کرے گا، جو اسرائیل کی طرح سعودی عرب کے لیے بھی اہم قرار دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاک بھارت کشیدگی میں ثالثی کے اپنے کردار کا حوالہ بھی دیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر نے شہزادہ محمد بن سلمان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے سعودی ولی عہد کو سلامی دی۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ عالمی امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور سعودی سرمایہ کاری مزید بڑھائی جائے گی۔

میڈیا بریفنگ کے دوران جب امریکی صدر سے جمال خاشقجی کے قتل پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد اس واقعے سے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات میں محمد بن سلمان ’’قابلِ تحسین اقدامات‘‘ کر رہے ہیں اور امریکا سعودی عرب کو ایڈوانس چپس فراہم کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ شام سے متعلق معاملات میں ’’اہم پیشرفت‘‘ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے شام پر عائد کچھ پابندیاں ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے۔

دوسری جانب محمد بن سلمان نے کہا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی خبر انتہائی افسوسناک تھی۔