LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور سعودی عرب میں نومبر میں ہونے والی چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ملتوی پمز ہسپتال میں بچوں کی اموات، آتشزدگی واقعہ: غفلت کے الزام میں 7 افسران چارج شیٹ گیس کے پیداواری ممالک کا آٹھواں سربراہی اجلاس، صدر پوتن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت معلومات کے تبادلے کےلیے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز

مریم نواز کا آٹزم میں مبتلا بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی کے عزم کا اعادہ

Web Desk

2 April 2026

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عالمی یومِ آٹزم پر اپنے خصوصی پیغام میں آٹزم میں مبتلا بچوں کو “اللہ کی نعمت” قرار دیتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ اور معاشرتی شمولیت کے لیے عملی اقدامات کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کے لیے خصوصی تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک ترجیح ہے، جس کے تحت پنجاب بھر میں 313 اداروں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے لاہور میں پاکستان کے پہلے “سرکاری آٹزم سکول” اور ریسورس سینٹر کے قیام کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے اپنی ٹیم اور معاون خصوصی ثانیہ عاشق کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس ادارے میں ‘ارلی آٹزم’ (ابتدائی مرحلے) کی تشخیص کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک سکول نہیں بلکہ ایک “سماجی انقلاب” ہے جو پورے صوبے کے لیے ایک مرکز (Hub) کا کام کرے گا۔

صوبے بھر کے سپیشل طلبہ کے لیے مالی خودمختاری کے حوالے سے “ہمت کارڈ” کا اجرا اور ہر سپیشل ایجوکیشن سینٹر کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی جیسے اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 28 سپیشل ایجوکیشن سکولوں کو ‘سنٹر آف ایکسی لینس’ میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ 27 ڈویژنل پبلک سکولوں میں آٹزم سینٹرز پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ ان بچوں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے۔