LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے، اہم سیاسی ملاقاتیں متوقع پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا پولیس کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی: فیصل کریم کنڈی امریکی قونصلیٹ کراچی میں ’’فریڈم 250‘‘ تقریب، امریکی کامیابیوں کا جشن ہمت ہے تو آؤ دھرنا دو، پی ٹی آئی لانگ مارچ سے بھاگ گئی: عطا تارڑ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، 4 جے آئی ٹیز اور 21 کیسز کے جیل ٹرائلز کی منظوری فیول سکیم پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ اداروں میں مؤثر رابطہ جاری ہے: بلال اظہر کیانی ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں کی پسپائی کا دعویٰ نجف سے ایران آنے اور جانیوالی تمام پروازیں معطل کردی گئیں اسٹیٹ بینک اور بینکنگ انڈسٹری کا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کا اجراء میر رضا کے اہلخانہ کی سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کی درخواست مسترد بحرالکاہل میں بننے والا طوفان، نولو کیٹیگری 1 کے سمندری طوفان میں تبدیل این ڈی ایم اے کا 25 سے 30 ستمبر تک ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ جاری سعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب عباس عراقچی کی روسی وزیر خارجہ سے ملاقات، تنازع کے سفارتی حل پر زور

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات

Web Desk

25 September 2026

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ میں شامل تینوں برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات منعقد ہوئی۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے شرکت کی۔

ملاقات کے دوران رہنماؤں نے معاہدے کے تحت جنرل سیکرٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام کے سلسلے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کی اہم شہری اور اقتصادی تنصیبات پر کیے جانے والے گھناؤنے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، اور سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مستعدی اور مملکت کی سلامتی کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ترجمان کے مطابق ملاقات کا ایک اہم نکتہ تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج (آرمی چیفس/عسکری قیادت) کا ہنگامی اجلاس بلانے پر غور کرنا تھا، جس کا مقصد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی مؤثر عسکری و سکیورٹی معاونت کے تمام ممکنہ طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاہدے کے بنیادی اصول کے تحت کسی بھی ایک فریق پر ہونے والے حملے کو تینوں فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں خطے کی مجموعی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں اور کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے سمندری تجارت کے تسلسل کے لیے بحری آمدورفت کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانے کی شدید ضرورت پر اتفاق کیا، اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، کشیدگی میں کمی لانے کی تمام کوششوں کی حمایت اور بحرانوں کے پُرامن سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا۔