LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاہدے میں تمام فریقین کے خدشات دور کرنا ضروری ہیں: قطر یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی وفاقی حکومت نے گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان مسترد کردیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو پانچ روز بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا ریلوے کوچز کے پرزوں کی بروقت خریداری نہ ہونے پر وفاقی وزیر برہم، انکوائری کا حکم استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس گورنر پنجاب نے اپنی استاد کو گورنر ہاؤس میں اپنی کرسی پر بٹھا دیا نشے کی حالت میں خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار پٹرول مزید 3 روپے 93 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت برقرار فضل الرحمٰن سے دہشتگردوں کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی: مریم نواز پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا سندھ حکومت کا انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی نئی منزل بننے کی جانب گامزن

متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی

Web Desk

14 December 2025

متحدہ عرب امارات نے بچوں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں اہم اصلاحات نافذ کر دی ہیں۔

نئے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق پر کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہوگا، چاہے متاثرہ فرد نے رضامندی ظاہر کی ہو۔ تاہم اگر متاثرہ شخص کی عمر 16 سال یا اس سے زائد ہو تو رضامندی کو محدود حد تک مدنظر رکھا جائے گا۔جسم فروشی یا بدکاری کی ترغیب دینے والے افراد کو کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، جبکہ اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر ہوا تو سزا مزید سخت ہوگی۔قانون کے تحت حکام کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم پر اضافی حفاظتی پابندیاں عائد کی جا سکیں تاکہ دوبارہ جرم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو جنسی استحصال سے بچانا اور معاشرے میں اخلاقی و عوامی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔