LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی

Web Desk

14 December 2025

متحدہ عرب امارات نے بچوں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں اہم اصلاحات نافذ کر دی ہیں۔

نئے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق پر کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہوگا، چاہے متاثرہ فرد نے رضامندی ظاہر کی ہو۔ تاہم اگر متاثرہ شخص کی عمر 16 سال یا اس سے زائد ہو تو رضامندی کو محدود حد تک مدنظر رکھا جائے گا۔جسم فروشی یا بدکاری کی ترغیب دینے والے افراد کو کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، جبکہ اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر ہوا تو سزا مزید سخت ہوگی۔قانون کے تحت حکام کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم پر اضافی حفاظتی پابندیاں عائد کی جا سکیں تاکہ دوبارہ جرم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو جنسی استحصال سے بچانا اور معاشرے میں اخلاقی و عوامی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔