متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی
Web Desk
14 December 2025
متحدہ عرب امارات نے بچوں کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق قوانین میں اہم اصلاحات نافذ کر دی ہیں۔
نئے قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق پر کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہوگا، چاہے متاثرہ فرد نے رضامندی ظاہر کی ہو۔ تاہم اگر متاثرہ شخص کی عمر 16 سال یا اس سے زائد ہو تو رضامندی کو محدود حد تک مدنظر رکھا جائے گا۔جسم فروشی یا بدکاری کی ترغیب دینے والے افراد کو کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، جبکہ اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر ہوا تو سزا مزید سخت ہوگی۔قانون کے تحت حکام کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد مجرم پر اضافی حفاظتی پابندیاں عائد کی جا سکیں تاکہ دوبارہ جرم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو جنسی استحصال سے بچانا اور معاشرے میں اخلاقی و عوامی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایران سے معاہدے میں تمام فریقین کے خدشات دور کرنا ضروری ہیں: قطر
16 October 2026
یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی
16 October 2026
ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی
16 October 2026
استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس
16 October 2026
پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا
16 October 2026
امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا
16 October 2026
چین کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کے قیام کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
16 October 2026
سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل اور بحیرہ احمر میں 2 کروز میزائل تباہ کردیے
16 October 2026