LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کراچی پہنچ گئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، امریکا جہازوں کو غلط ضمانتیں دے رہا ہے: ایران این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ پنجاب اسمبلی میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد حقوق کے حصول کیلئے آ رہی ہے: بیرسٹر گوہر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں: مصدق ملک غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری اور فائرنگ، 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن

کراچی نیپا چورنگی حادثہ، شوبز شخصیات کا انتظامیہ کی غفلت پر شدید ردِعمل

Web Desk

2 December 2025

نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم کی المناک موت نے پورے شوبز حلقے کو بھی غمزدہ کر دیا ہے۔

معصوم ابراہیم والدین کے ساتھ شاپنگ کے لیے نکلا تھا لیکن کھلے گٹر میں گرنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا، پندرہ گھنٹے کی تلاش کے بعد اس کی لاش ملی جس کے بعد نمازِ جنازہ ادا کرکے تدفین کر دی گئی،تاہم شوبز شخصیات بھی ننھے ابراہیم کی موت پر انتہائی افسردہ ہیں اور انتظامیہ و حکمرانوں کی ناہلی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔اداکار احسن خان نے ابراہیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اسے وہ بنیادی تحفظ نہ دے سکے جس کا ہر بچہ حق دار ہے، اس کی معصومیت اور بے بسی ہماری اجتماعی ناکامی ہے، ابراہیم ہمیں معاف کر دینا۔اداکارہ فاطمہ آفندی نے حکام کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپے ای چالان سے وصول کیے جاتے ہیں مگر سڑکوں پر مین ہول کے ڈھکن لگانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ماہرہ خان نے واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد لکھا کہ ماں کا اپنے بچے کے لیے بلک بلک کر رونا دل دہلا دینے والا ہے، اس حادثے کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ ایسی بے حسی ناقابلِ برداشت ہے۔سجل علی نے بھی شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دل توڑ دینے والا حادثہ ہے، شرم آنی چاہیے اس شخص یا ادار کو جو اس کا ذمہ دار ہے، کراچی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اس ناکام نظام کی جواب دہی کون کرے گا؟انہوں نے کہا کہ جو شہر لاکھوں لوگوں کو سہارا دیتا ہے، اس کے تحفظ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔