LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

امریکہ میں پاکستانی سفیر کی اعلیٰ امریکی قیادت سے اہم ملاقاتیں

Web Desk

9 January 2026

امریکہ میں سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اعلیٰ امریکی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، اسی سلسلے میں انہوں نے امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز سے ایک اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی و عالمی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں سال 2025 اہم کامیابیوں کا حامل رہا، جبکہ سال 2026 میں دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر میں پاکستان کی توجہ جغرافیائی سیاست سے بڑھ کر جیواکنامکس پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مئی 2025 کے واقعات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کے باعث خطے کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوئے اور جارحیت کی دہلیز خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ جوہری صلاحیت کی حامل دو ریاستوں کے درمیان تصادم اب روایتی جنگ سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 1.7 ارب آبادی کے حامل خطے میں براہموس میزائل جیسے دوہری صلاحیت کے حامل ہتھیاروں کا استعمال انتہائی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خدشات اور غلط فہمیوں پر مبنی فیصلے علاقائی امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی 2025 کے واقعات نے ثابت کیا کہ انڈو پیسیفک کے حوالے سے بھارتی اعلانیہ مؤقف کے باوجود اس کی فوجی صلاحیت کا بڑا حصہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

سفیر پاکستان نے مئی کے بحران پر قابو پانے میں امریکی صدر کی سیاسی بصیرت اور ذاتی دلچسپی کو سراہتے ہوئے اسے لائق تحسین قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی اور حل طلب مسئلہ کشمیری عوام کا حق خودارادیت ہے اور پائیدار علاقائی امن و استحکام کے لیے امریکا کی مسلسل شمولیت اور وابستگی انتہائی اہم ہے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، سال 2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں 40 فیصد جبکہ سال 2025 میں مزید 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے افغانستان سے انخلا کے وقت پیچھے رہ جانے والے جدید اسلحے کے غلط استعمال کو پاکستان کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دوطرفہ مفادات سے متعلق معاملات پر ادارہ جاتی اور منظم مکالمے کے عمل کو جلد از جلد مستحکم کیا جائے گا۔