LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

فضا علی اور بیٹی کی تصاویر پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ، صارفین کا لباس پر شدید ردِعمل

Web Desk

22 November 2025

پاکستانی اداکارہ، گلوکارہ اور میزبان فضا علی کو اپنی بیٹی فرال فواد کے ساتھ بیرون ملک دورے کے دوران شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اداکارہ نے چھٹیوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس کے بعد صارفین نے ان کے اور بیٹی کے لباس کو موضوعِ بحث بنا لیا۔

تصاویر سامنے آتے ہی بعض صارفین نے فضا علی اور فرال کے ملبوسات کو “غیر مناسب” قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا۔ کچھ نے مشورہ دیا کہ “پاکستان میں قمیص شلوار، اور بیرون ملک مغربی لباس”— یہ دوہرا معیار درست نہیں۔
ایک جذباتی صارف نے فضا علی سے اپیل کی کہ “اپنی بیٹی کو اپنی طرح نہ بنائیں”، جبکہ ایک اور نے طنزیہ سوال کیا کہ “کیا آپ لوگ پاکستان میں پہنے جانے والے کپڑے گھر ہی بھول گئے؟”

سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے فضا علی اور ان کی بیٹی کو شدید تنقید کے vortex میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں صارفین کی اکثریت ان کے لباس کو ہی مرکزِ گفتگو بنائے ہوئے ہے۔