LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا

پاکستان سمیت 8 ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی شدید مذمت

Web Desk

17 February 2026

پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی کو اسرائیل کی جانب سے نام نہاد اسٹیٹ لینڈ قرار دینے اور 1967 کے بعد پہلی بار وسیع پیمانے پر اراضی کی رجسٹریشن و ملکیت کے طریقہ کار کی منظوری دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی بستیوں کے قیام کو تیز کرنے، زمینوں پر قبضہ مستحکم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور چوتھا جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے منافی قرار دیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ دو ریاستی حل کو کمزور کرنے اور خطے میں منصفانہ اور جامع امن کے امکانات کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر اور واضح اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرے، جس میں 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد اور خودمختار ریاست کا قیام شامل ہے۔