LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور میں شہری کے نام پر 2354 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا حیران کن انکشاف افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی

طلاق کا نوٹس 90 دن پورے ہونے سے پہلے مؤثر نہیں ہوتا،سپریم کورٹ

Web Desk

29 November 2025

سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ طلاق کا نوٹس 90 دن پورے ہونے سے پہلے مؤثر نہیں ہوتا، اور اگر شوہر نے بیوی کو بلاشرط طلاق کا حق تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی حاصل ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے شہری محمد حسن سلطان کی یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس شافعی صدیقی نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق شوہر اور بیوی شادی کے بعد نیویارک میں مقیم تھے۔ بیوی 2023 میں اپنی بیٹی کے ساتھ کراچی واپس آگئی اور 3 جولائی 2023 کو شوہر کو طلاق کا نوٹس جاری کیا، جبکہ بعد ازاں 10 اگست کو طلاق کا نوٹس واپس لینے کی درخواست بھی جمع کروائی۔ یونین کونسل نے 90 دن مکمل نہ ہونے پر طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔

نوٹس کی واپسی پر شوہر نے یونین کونسل سے رجوع کیا، تاہم درخواست دائرہ اختیار نہ ہونے پر خارج کر دی گئی۔ شوہر نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، مگر ہائی کورٹ نے بھی یونین کونسل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے عین مطابق تھے، لہٰذا محمد حسن سلطان کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔