LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید سلامتی کونسل: پاکستان کا 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ

طلاق کا نوٹس 90 دن پورے ہونے سے پہلے مؤثر نہیں ہوتا،سپریم کورٹ

Web Desk

29 November 2025

سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ طلاق کا نوٹس 90 دن پورے ہونے سے پہلے مؤثر نہیں ہوتا، اور اگر شوہر نے بیوی کو بلاشرط طلاق کا حق تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی حاصل ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے شہری محمد حسن سلطان کی یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس شافعی صدیقی نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس کے مطابق شوہر اور بیوی شادی کے بعد نیویارک میں مقیم تھے۔ بیوی 2023 میں اپنی بیٹی کے ساتھ کراچی واپس آگئی اور 3 جولائی 2023 کو شوہر کو طلاق کا نوٹس جاری کیا، جبکہ بعد ازاں 10 اگست کو طلاق کا نوٹس واپس لینے کی درخواست بھی جمع کروائی۔ یونین کونسل نے 90 دن مکمل نہ ہونے پر طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔

نوٹس کی واپسی پر شوہر نے یونین کونسل سے رجوع کیا، تاہم درخواست دائرہ اختیار نہ ہونے پر خارج کر دی گئی۔ شوہر نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، مگر ہائی کورٹ نے بھی یونین کونسل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے عین مطابق تھے، لہٰذا محمد حسن سلطان کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔