LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی

اسلام آباد کچہری دھماکے کی افغانستان میں منصوبہ بندی بے نقاب،سہولت کار کا اعتراف

Web Desk

25 November 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ خودکش حملہ آور اصل ہدف تک نہ پہنچ سکا اور مضافاتی علاقے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد 48 گھنٹوں میں 4 اہم ملزمان گرفتار کیے گئے، جن میں ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر شامل ہیں۔حکام کے مطابق ساجد اللہ حملے کا مرکزی کردار تھا، جو 2015 سے افغانستان میں ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا اور مختلف ٹریننگ کیمپوں میں تربیت لیتا رہا۔

حملے کی منصوبہ بندی ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داداللہ کے ذریعے کی۔ ملزمان نے خودکش حملہ آور عثمان شنواری کو بارودی جیکٹ اور مواد فراہم کیا، جسے بعد میں اسلام آباد کے جی-11 سیکٹر میں استعمال کیا گیا۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے سے بچا گیا اور دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔