LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ سینیٹ امیدوار کی حیثیت برقرار

Web Desk

5 November 2025

بلوچستان ہائی کورٹ نے ایمل ولی خان کی سینیٹ کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی کامیابی مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔

عدالتِ عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمل ولی خان کا شناختی کارڈ بلوچستان کے پتے پر جاری ہوا ہے جبکہ ان کا نام کوئٹہ کے حلقے کی ووٹر فہرست میں موجود ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن نے 15 مارچ 2024 کو ووٹر اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ایمل ولی خان کا ووٹر اندراج غیر قانونی تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 26 اور 27 کے تحت پتہ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

فیصلے کے مطابق، شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کو ثابت کرتا ہے، جبکہ ایمل ولی خان آئین کے آرٹیکل 62 کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 110 کے تحت ان کے کاغذاتِ نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے تھے، لہٰذا ان کی کامیابی میں کسی قسم کی قانونی یا آئینی خامی نہیں پائی گئی