LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی امریکا کو پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے: مارکو روبیو مولانا فضل الرحمان غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں، فرح عظیم شاہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے: امریکی وزیر خارجہ جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس، برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسائل کے حل پر غور حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1514 ارب روپے قرض لیا اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت گندم درآمد سے متعلق اجلاس، ملکی ذخائر اور طلب و رسد کا جائزہ نیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی ہدایت دی، امریکی مخالفت پر منصوبہ رک گیا: برطانوی اخبار روس یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر آمادہ فرانسیسی صدر میکرون کا سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ، ولی عہد سے ملاقات متوقع امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ سینیٹ امیدوار کی حیثیت برقرار

Web Desk

5 November 2025

بلوچستان ہائی کورٹ نے ایمل ولی خان کی سینیٹ کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی کامیابی مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔

عدالتِ عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمل ولی خان کا شناختی کارڈ بلوچستان کے پتے پر جاری ہوا ہے جبکہ ان کا نام کوئٹہ کے حلقے کی ووٹر فہرست میں موجود ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن نے 15 مارچ 2024 کو ووٹر اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ایمل ولی خان کا ووٹر اندراج غیر قانونی تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 26 اور 27 کے تحت پتہ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

فیصلے کے مطابق، شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کو ثابت کرتا ہے، جبکہ ایمل ولی خان آئین کے آرٹیکل 62 کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 110 کے تحت ان کے کاغذاتِ نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے تھے، لہٰذا ان کی کامیابی میں کسی قسم کی قانونی یا آئینی خامی نہیں پائی گئی