LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ خوراک کی بلا تعطل فراہمی کے لیے امارات میں متبادل سپلائی چین فعال رجب بٹ نے اہلیہ ایمان فاطمہ سے شادی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ایران پر جتنا دباؤ بڑھے گا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، چین کا ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ نیویارک:میئر ہاؤس کے باہر اسلام مخالف مظاہرے کے دوران مشتبہ آلات پھینکے گئے، 2افراد زیر حراست  جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ رہے: امریکی صدر ٹرمپ دبئی میں فضائی کارروائی کے دوران ملبہ گرنے سے جاں بحق ڈرائیور پاکستانی تھا، اماراتی حکام ایران پر کسی بھی بڑے حملے سے رجیم چینج ممکن نہیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پیشگی منصوبہ بندی نہ ہوتی تو پیٹرول 375 روپے فی لیٹر ہو چکا ہوتا :خواجہ آصف ایرانی حملوں سے پاکستان کو سعودی عرب کے معاملے میں مشکل صورتحال کا سامنا جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے بعد ایران کا بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ تہران میں حملہ ، قدس فورس کے 16طیارے تباہ کردیے، اسرائیل کا دعویٰ آسان شکار نہیں، عوام کی حفاظت کریں گے، صدر یواے ای کا ایرانی حملوں پرردعمل ایران پر حملہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیاپر احسان اور خدمت ہے، امریکی صدر

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ سینیٹ امیدوار کی حیثیت برقرار

Web Desk

5 November 2025

بلوچستان ہائی کورٹ نے ایمل ولی خان کی سینیٹ کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان کی کامیابی مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔

عدالتِ عالیہ بلوچستان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایمل ولی خان کا شناختی کارڈ بلوچستان کے پتے پر جاری ہوا ہے جبکہ ان کا نام کوئٹہ کے حلقے کی ووٹر فہرست میں موجود ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن نے 15 مارچ 2024 کو ووٹر اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ ایمل ولی خان کا ووٹر اندراج غیر قانونی تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 26 اور 27 کے تحت پتہ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔

فیصلے کے مطابق، شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں اندراج کسی شخص کی رہائش کو ثابت کرتا ہے، جبکہ ایمل ولی خان آئین کے آرٹیکل 62 کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 110 کے تحت ان کے کاغذاتِ نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے تھے، لہٰذا ان کی کامیابی میں کسی قسم کی قانونی یا آئینی خامی نہیں پائی گئی