LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صارفین کیلئے اچھی خبر، ایل پی جی 50 روپے فی کلو سستی ہونے کا امکان اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ریٹرننگ افسران مقرر کر دیئے گئے خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں کیلئے وفاق 160 ارب روپے فراہم کرے گا:شہباز شریف لاہور پولیس کا گودام پر چھاپہ، 6 ہزار پتنگیں، ڈوریں برآمد، 5 ملزم گرفتار ایران نے جدید جنگی اور خودکش ڈرونز کی تیاری کی پہلی ویڈیو جاری کردی میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل ہوگا: آئی جی سندھ ایران کی امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر دھمکی، فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین کیلئے سفری ایڈوائزری جاری حوثیوں کا سعودی وزارت دفاع، آرامکو اور دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ قومی اسمبلی میں حکومت غائب، پارلیمانی تقاریر کی سنسر شپ آئین کی خلاف ورزی ہے: محمود خان اچکزئی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا نا قابلِ قبول، گرفتار و مغوی رہنماؤں کی فوری بازیابی کی جائے: پی ٹی آئی 5 سال میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش خیبرپختونخوا: اپیکس کمیٹی کا اجلاس، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پی ایم یوتھ پروگرام اور امریکی ادارے PRG میں تاریخی معاہدہ

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، اعلیٰ افسران کے شفاف احتساب کا عمل شروع

Web Desk

28 November 2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔

ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔