LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، اعلیٰ افسران کے شفاف احتساب کا عمل شروع

Web Desk

28 November 2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔

ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔