LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، اعلیٰ افسران کے شفاف احتساب کا عمل شروع

Web Desk

28 November 2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔

ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔