LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، اعلیٰ افسران کے شفاف احتساب کا عمل شروع

Web Desk

28 November 2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔

ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔