LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف کا انڈونیشن صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، سکیورٹی صورتحال پر اظہار تشویش قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2026 پیش، حکومت اور اپوزیشن میں سخت جملوں کا تبادلہ این ایچ اے کی آمدن 109 ارب تک پہنچ گئی، وزیراعظم کی زیرِصدارت اجلاس میں بریفنگ ایران کے ڈرون آذربائیجان میں جا گرے، دو شہری زخمی، ایئرپورٹ کو نقصان، سفیر طلب وفاقی وزارتوں میں ایک لاکھ سے زائد آسامیاں خالی، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش سینیٹ نے نیب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، چیئرمین کی مدت ملازمت اور اپیلوں میں اصلاحات شامل پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار آپریشن غضب للحق کے دوران قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، سکیورٹی ذرائع پاکستان کی تمام بندرگاہوں کے داخلے عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جعلی قرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی علاج کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا پنجاب حکومت کا “وزیراعلیٰ رحمت کارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ، بیواؤں کو ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی، عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت ایران کے امریکا اور اسرائیل پر تازہ حملے، 10 ڈرونز تباہ، 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، اعلیٰ افسران کے شفاف احتساب کا عمل شروع

Web Desk

28 November 2025

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے پر عملدرآمد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 231 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا۔

ایف بی آر نے شیئرنگ آف ڈیکلریشن آف اسٹیٹس آفس سول سرونتس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دیں۔اس سے قبل یہی ترامیم اکتوبر 2025 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت شائع کی گئیں۔ جنہیں عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے اہم ترمیم لفظ سول کی جگہ پبلک استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ جبکہ رول 2 میں نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسکیل 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو پبلک سرونٹ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آنے والے ملازمین کو بھی شامل کرلیا گیا۔شق کے تحت اس کیٹگری میں ایسے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کی کلاز این کی ذیلی شق 4 کے تحت استثنیٰ دیا گیا ہو۔