LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

امریکا کا 66 عالمی اداروں و تنظیموں سے علیحدگی اور فنڈنگ روکنے کا اعلان

Web Desk

8 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا درجنوں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکا 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج بھی شامل ہے، جو 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

فیصلے کے تحت امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا۔ میمو کے مطابق ان اداروں سے علیحدگی کا مطلب امریکی شرکت اور مالی تعاون کا خاتمہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تمام بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے جامع جائزے کا حصہ ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ امریکی شمولیت اور فنڈنگ قومی ترجیحات اور مفادات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔