LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق سرکاری حج سکیم: دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ میں ایک روز کی توسیع نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ، اضافی ٹیکس کی تجویز اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم اسحاق ڈار سے صدر مالدیپ کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش مدینہ منورہ اور مشرقی علاقوں کی جانب آنیوالے 5 ڈرونز تباہ کر دیئے: سعودی فوجی اتحاد ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ، تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنے کی پیشگوئی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں: عباس عراقچی

اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی پر حکومت کا اعتراض

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری ایک مرتبہ پھر سیاسی موضوع بن گئی ہے، جہاں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے اچکزئی کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا ہے اور پارٹی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم اپوزیشن لیڈر کے لیے نام کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے، اسی دوران آئین میں 27ویں ترمیم بھی منظور ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ہیں، لہٰذا حکومت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ مکمل آئینی اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی نامزدگی دے، اور حکومت کو اس عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

عامر ڈوگر کے مطابق نام پارٹی کے بانی سے مشاورت کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے دوبارہ مشاورت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب جلد جمع کرا دیا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کارروائی آگے بڑھے گی۔