LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: شزہ فاطمہ انتخابات میں کامیابی یا شکست کو جمہوری روایت کے مطابق قبول کیا جانا چاہئے: اختیار ولی خان وزیراعلیٰ سندھ کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، نکاسی آب کے اقدامات تیز کرنے کا حکم

اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی پر حکومت کا اعتراض

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری ایک مرتبہ پھر سیاسی موضوع بن گئی ہے، جہاں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے اچکزئی کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا ہے اور پارٹی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم اپوزیشن لیڈر کے لیے نام کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے، اسی دوران آئین میں 27ویں ترمیم بھی منظور ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ہیں، لہٰذا حکومت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ مکمل آئینی اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی نامزدگی دے، اور حکومت کو اس عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

عامر ڈوگر کے مطابق نام پارٹی کے بانی سے مشاورت کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے دوبارہ مشاورت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب جلد جمع کرا دیا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کارروائی آگے بڑھے گی۔