LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے سیاسی قائدین کا مشترکہ جدوجہد کا اعلان پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا: وزیراعلیٰ سندھ مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری صومالیہ کا بحری قزاقی کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش: وزیرِ خزانہ کی شفافیت اور عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل

اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی پر حکومت کا اعتراض

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری ایک مرتبہ پھر سیاسی موضوع بن گئی ہے، جہاں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے اچکزئی کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا ہے اور پارٹی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم اپوزیشن لیڈر کے لیے نام کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے، اسی دوران آئین میں 27ویں ترمیم بھی منظور ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ہیں، لہٰذا حکومت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ مکمل آئینی اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی نامزدگی دے، اور حکومت کو اس عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

عامر ڈوگر کے مطابق نام پارٹی کے بانی سے مشاورت کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے دوبارہ مشاورت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب جلد جمع کرا دیا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کارروائی آگے بڑھے گی۔