LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم اجلاس آج طلب شرح سود برقرار رہے گی یا بڑھے گی؟ نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دے دی تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی امن کے لیے چھوٹی قربانی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 9700 پوائنٹس کی کمی، ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسرائیل پر میزائل حملے، لبنان میں جھڑپیں، کئی شہری شہید ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا

اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود خان اچکزئی کی نامزدگی پر حکومت کا اعتراض

Web Desk

20 November 2025

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری ایک مرتبہ پھر سیاسی موضوع بن گئی ہے، جہاں حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو باضابطہ خط ارسال کردیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے اچکزئی کے نام پر حتمی اتفاق کر لیا ہے اور پارٹی قیادت اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے ساتھ مشاورت کے بعد خط کا جواب دیا جائے گا، تاہم اپوزیشن لیڈر کے لیے نام کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ دو ماہ سے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی ہے، اسی دوران آئین میں 27ویں ترمیم بھی منظور ہو چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ہیں، لہٰذا حکومت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ مکمل آئینی اختیار ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے لیے اپنی نامزدگی دے، اور حکومت کو اس عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

عامر ڈوگر کے مطابق نام پارٹی کے بانی سے مشاورت کے بعد دیا گیا ہے، اس لیے دوبارہ مشاورت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط کا جواب جلد جمع کرا دیا جائے گا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق کارروائی آگے بڑھے گی۔