LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفیر سید حیدر شاہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو اسناد سفارت پیش کر دیں امریکی پیغامات سے ثابت ہوا حالیہ جنگ میں واشنگٹن نے ایرانی فتح تسلیم کر لی: محمد رضا عارف امریکا ایران کیخلاف جنگ کے ذریعے عالمی معیشت میں خلل ڈال رہا ہے: علی باقری کنی ایران نے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا امکان مسترد کر دیا آبنائے ہرمز بحران: ترک صدر کا متبادل تجارتی راستے بنانے پر زور ڈی آئی خان: شہریوں کے تحفظ کیلئے جدید ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم متعارف مریم نواز کا چودھری سالک کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوانے کا اعلان چائلڈ پورنوگرافی اور کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے کے الزام میں دو ملزم گرفتار پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کیلئے ڈاکٹر عشرت نے انقلابی اقدامات کیے: وزیر خزانہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، سپاہی شہید نیویارک میں انتخابات کے دوران تکنیکی خرابی، 7 لاکھ ووٹرز مشکلات کا شکار جھوٹے الزام لگانا عاجزی اور جواب دینا تکبر ہے؟ مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین پر پلٹ وار امریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی مالی امداد بند کر دے گا: ٹرمپ امریکی تاریخ میں پہلی بار تمام 50 ریاستوں میں انتخابی مبصرین تعینات انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں اتحادیوں کی نمائندگی کا معاملہ حکومت کیلئے چیلنج بن گیا

امریکا ایران کیخلاف جنگ کے ذریعے عالمی معیشت میں خلل ڈال رہا ہے: علی باقری کنی

Web Desk

3 November 2026

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ میں بین الاقوامی امور کے نائب سربراہ علی باقری کنی نے امریکہ پر سخت الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف بلاجواز جنگ اور عسکری اقدامات کے ذریعے عالمی معیشت اور تجارتی نظام میں شدید خلل ڈالنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ (IRNA) کے مطابق، چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے علی باقری کنی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ تمام اقدامات اس کی روایتی جارحانہ پالیسیوں اور سامراجی بالادستی پسند فطرت کی کھلی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اختیار کی گئی امریکہ کی جارحانہ پالیسی نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے، بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارتی نظام پر بھی انتہائی منفی انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال، ایران پر امریکی حملوں اور باہمی اسٹریٹجک تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔